فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 220 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 220

220 فلسطین سے کشمیر تک بھی حق پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایسا خیال کریں کہ انا جیل موجودہ در حقیقت بدھ مذہب کا ایک خاکہ ہے۔یہ شہادتیں اس قدر گزر چکی ہیں کہ اب مخفی نہیں ہوسکتیں۔ایک اور امرتعجب انگیز ہے کہ یوز آسف کی قدیم کتاب (جس کی نسبت اکثر محقق انگریزوں کے بھی یہ خیالات ہیں کہ وہ حضرت عیسی کی پیدائش سے بھی پہلے شائع ہو چکی ہے) جس کے ترجمے تمام ممالک یورپ میں ہو چکے ہیں انجیل کو اس کے اکثر مقامات سے ایسا تو ارد ہے کہ بہت سی عبارتیں باہم ملتی ہیں اور جو انجیلوں میں بعض مثالیں موجود ہیں وہی مثالیں انہیں الفاظ کے ساتھ اس کتاب میں بھی موجود ہیں۔اگر ایک شخص ایسا جاہل ہو که گویا اندھا ہو وہ بھی اس کتاب کو دیکھ کر یقین کرے گا کہ انجیل اُسی میں سے چورائی گئی ہے۔بعض لوگوں کی یہ رائے ہے کہ یہ کتاب گوتم بدھ کی ہے اور اوّل سنسکرت میں تھی اور پھر دوسری زبانوں میں ترجمے ہوئے۔چنانچہ بعض محقق انگریز بھی اس بات کے قائل ہیں۔مگر اس بات کے ماننے سے انجیل کا کچھ باقی نہیں رہتا۔اور نعوذ باللہ حضرت عیسی اپنی تمام تعلیم میں چور ثابت ہوتے ہیں۔کتاب موجود ہے۔جو چاہے دیکھ لے۔مگر ہماری رائے تو یہ ہے کہ خود حضرت عیسی کی یہ انجیل ہے جو ہندوستان کے سفر میں لکھی گئی اور ہم نے بہت سے دلائل سے اس بات کو ثابت بھی کر دیا ہے کہ یہ در حقیقت حضرت عیسی کی انجیل ہے اور دوسری انجیلوں سے زیادہ پاک وصاف ہے۔مگر وہ بعض محقق انگریز جو اس کتاب کو بدھ کی کتاب ٹھہراتے ہیں وہ اپنے پاؤں پر آپ تبر مارتے ہیں اور حضرت عیسی علیہ السلام کو سارق قرار دیتے ہیں۔(چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 339 تا 340) اور عیسائیوں پر تو نہایت ہی افسوس ہے جنہوں نے طبعی اور فلسفہ پڑھ کر ڈبو دیا ایک طرف تو آسمانوں کے منکر ہیں اور ایک طرف حضرت عیسی کو آسمان پر بٹھاتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ اگر یہود کی پہلی کتابیں سچی ہیں تو ان کی بنا پر حضرت عیسی کی نبوت ہی ثابت نہیں ہوتی۔مثلاً بچے مسیح موعود کیلئے جس کا حضرت عیسی کو دعوئی ہے ملا کی نبی کی کتاب کے رُو سے یہ ضروری تھا کہ اس سے پہلے الیاس نبی دوبارہ دنیا میں آتا۔مگر الیاس تو اب تک نہ