فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 218 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 218

لیکچر سیالکوٹ 218 فلسطین سے کشمیر تک کے رفع کے انہیں معنوں سے منکر ہیں کہ وہ نعوذ باللہ مومن اور صادق نہ تھے اور ان کی روح کا خدا کی طرف رفع نہیں ہوا اور شک ہو تو یہودیوں کے علماء سے جا کر پوچھ لو کہ وہ صلیبی موت سے یہ نتیجہ نہیں نکالتے کہ اس موت سے روح معہ جسم آسمان پر نہیں جاتی۔بلکہ وہ بالا تفاق یہ کہتے ہیں کہ جو شخص صلیب کے ذریعہ سے مارا جائے وہ ملعون ہے۔اس کا خدا کی طرف رفع نہیں ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں حضرت عیسی کی صلیبی موت سے انکار کیا اور فرمایا وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ با ے اور صَلَبُوهُ کے ساتھ آیت میں قَتَلُوهُ کا لفظ بڑھا دیا۔تا اس بات پر دلالت کرے کہ ا صرف صلیب پر چڑھایا جانا موجب لعنت نہیں بلکہ شرط یہ ہے کہ صلیب پر چڑھایا بھی جائے اور بہ نیت قتل اس کی ٹانگیں بھی توڑی جائیں اور اس کو مارا بھی جائے تب وہ موت ملعون کی موت کہلائے گی مگر خدا نے حضرت عیسیٰ کو اس موت سے بچالیا۔وہ صلیب پر چڑھائے گئے مگر صلیب کے ذریعہ سے ان کی موت نہیں ہوئی۔ہاں یہود کے دلوں میں یہ محبہ ڈال دیا کہ گویا وہ صلیب پر مر گئے ہیں اور یہی دھوکا نصاریٰ کو بھی لگ گیا۔ہاں انہوں نے خیال کیا کہ وہ مرنے کے بعد زندہ ہو گئے ہیں لیکن اصل بات صرف اتنی تھی کہ اس صلیب کے صدمہ سے بے ہوش ہو گئے تھے اور یہی معنی شُبِّهَ لَهُمْ کے ہیں۔اس واقعہ پر مرہم عیسی کا نسخہ ایک عجیب شہادت ہے جو صد ہا سال سے عبرانیوں اور رومیوں اور یونانیوں اور اہل اسلام کی قرابادینوں میں مندرج ہوتا چلا آیا ہے جس کی تعریف میں لکھتے ہیں کہ حضرت عیسی کے واسطے یہ نسخہ بنایا گیا تھا۔غرض یہ خیالات نہایت قابل شرم ہیں کہ خدا تعالیٰ حضرت مسیح کو معہ جسم آسمان پر اٹھا لے گیا تھا۔گویا یہودیوں سے ڈرتا تھا کہ کہیں پکڑ نہ لیں۔جن لوگوں کو اصل تنازعہ کی خبر نہ تھی انہوں نے ایسے خیالات پھیلائے ہیں اور ایسے خیالات میں آنحضرت صلعم کی ہجو ہے کیونکہ آپ سے کفار قریش نے بتمام تر اصرار یہ معجزہ طلب کیا تھا کہ آپ ہمارے رُوبرو آسمان پر چڑھ جائیں اور کتاب لے کر آسمان سے اُتریں تو ہم سب ایمان لے آویں گے اور ان کو یہ جواب ملا تھا قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنتُ إِلَّا بَشَراً رَّسُولًا لے یعنی میں ایک بشر ہوں اور خدا تعالیٰ اس سے پاک ہے ا۔النساء: 158 ۲۔بنی اسرائیل: 94