فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 215 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 215

تذكرة الشهادتين 215 فلسطین سے کشمیر تک بعض نے صاف لفظوں میں لکھ دیا ہے کہ یہ شخص سچا معلوم ہوتا ہے۔اور بعض نے یہ بھی لکھا ہے کہ در حقیقت یسوع مسیح کو خدا بنانا ایک بھاری غلطی ہے۔اور بعض نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس وقت مسیح موعود کا دعوی عین وقت پر ہے اور وقت خود ایک دلیل ہے۔غرض اُن کے اِن تمام بیانات سے صاف ظاہر ہے کہ وہ میرے دعوے کے قبول کرنے کے لئے تیاری کر رہے ہیں۔اور ان ملکوں میں سے دن بدن عیسائی مذہب خود بخود برف کی طرح پگلتا جاتا ہے۔(۸) آٹھویں خصوصیت مسیح میں یہ تھی کہ اُس کے وقت میں ایک ستارہ نکلا تھا۔اس خصوصیت میں بھی میں آخری مسیح بنے میں شریک کیا گیا ہوں کیونکہ وہی ستارہ جو مسیح کے وقت میں نکلا تھا دوبارہ میرے وقت میں نکلا ہے۔اس بات کی انگریزی اخباروں نے بھی تصدیق کی ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ مسیح کے ظہور کا وقت نزدیک ہے (9) نویں خصوصیت یسوع مسیح میں یہ تھی کہ جب اس کو صلیب پر چڑھایا گیا تو سورج کو گرہن لگا تھا سو اس واقعہ میں بھی خدا نے مجھے شریک کیا ہے کیونکہ جب میری تکذیب کی گئی تو اس کے بعد نہ صرف سورج بلکہ چاند کو بھی ایک ہی مہینہ میں جو رمضان کا مہینہ تھا گرہن لگا تھا اور نہ ایک دفعہ بلکہ حدیث کے مطابق دو دفعہ یہ واقعہ ہوا۔ان دونوں گرہنوں کی انجیلوں میں بھی خبر دی گئی ہے اور قرآن شریف میں بھی یہ خبر ہے اور حدیثوں میں بھی جیسا کہ دار قطنی میں (۱۰) دسویں خصوصیت یہ ہے کہ یسوع مسیح کو دُکھ دینے کے بعد یہودیوں میں سخت طاعون پھیلی تھی سو میرے وقت میں بھی سخت طاعون پھیل گئی (۱۱) گیارہویں خصوصیت یسوع مسیح میں یہ تھی کہ یہودیوں کے علماء نے کوشش کی کہ وہ باغی قرار پاوے اور اس پر مقدمہ بنایا گیا اور زور لگایا گیا کہ اُس کو سزائے موت دی جائے سواس قسم کے مقدمہ میں بھی قضاء وقد رالہی نے مجھے شریک کر دیا کہ ایک خون کا مقدمہ مجھے پر بنایا گیا اور اسی کے ضمن میں مجھے باغی بنانے کی کوشش کی گئی۔یہ وہی مقدمہ ہے جس میں فریق ثانی کی طرف سے مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی گواہ بن کر آئے تھے (۱۲) بارھویں خصوصیت یسوع مسیح میں یہ تھی کہ جب وہ صلیب پر چڑھایا گیا تو اُس کے ساتھ ایک چور بھی صلیب پر لٹکایا گیا تھا سو اس واقعہ میں بھی میں شریک کیا گیا ہوں کیونکہ