فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 211 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 211

تذكرة الشهادتين 211 فلسطین سے کشمیر تک عیسی ابن مریم نے ایک سو بیس برس عمر پائی اور پھر فوت ہو کر اپنے خدا کو جاملا اور دوسرے عالم میں پہنچ کر یحی" کا ہم نشین ہوا کیونکہ اس کے واقعہ اور یحییٰ نبی کے واقعہ کو باہم مشابہت تھی۔اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ نیک انسان تھا اور نبی تھا مگر اسے خدا کہنا کفر ہے۔لاکھوں انسان دنیا میں ایسے گزر چکے ہیں اور آئندہ بھی ہوں گے۔خدا کسی کے برگزیدہ کرنے میں کبھی نہیں تھکا اور نہ تھکے گا (۶) چھٹی خصوصیت یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام قیصر روم کی عملداری کے ماتحت مبعوث ہوئے تھے۔(۷) ساتویں خصوصیت یہ ہے کہ رومی سلطنت کو مذہب عیسوی سے مخالفت تھی مگر اخیری نتیجہ یہ ہوا کہ مذہب عیسائی قیصری قوم میں گھس گیا یہاں تک کہ کچھ مدت کے بعد خود قیصر روم عیسائی ہو گیا۔(۸) آٹھویں خصوصیت یہ ہے کہ یسوع مسیح کے وقت میں جس کو اہل اسلام عیسی کہتے ہیں ایک نیا ستارہ نکلا تھا (9) نویں خصوصیت یہ ہے کہ جب اس کو صلیب پر چڑھایا گیا تو سورج کو گرہن لگا تھا (۱۰) دسویں خصوصیت یہ ہے کہ اس کو دکھ دینے کے بعد یہودیوں میں سخت طاعون پھیلی تھی (۱۱) گیارہویں خصوصیت یہ ہے کہ اس پر مذہبی تعصب سے مقدمہ بنایا گیا اور یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ وہ سلطنت روم کا مخالف اور بغاوت پر آمادہ ہے (۱۲) بارہویں خصوصیت یہ ہے کہ جب وہ صلیب پر چڑھایا گیا تو اس کے ساتھ ایک چور بھی صلیب پر لٹکایا گیا (۱۳) تیرھویں خصوصیت یہ ہے کہ جب وہ پیلاطوس کے سامنے سزائے موت کے لئے پیش کیا گیا تو پیلاطوس نے کہا کہ میں اس کا کوئی گناہ نہیں پاتا۔(۱۴) چودھویں خصوصیت یہ کہ اگر چہ وہ باپ کے نہ ہونے کی وجہ سے بنی اسرائیل میں سے نہ تھا۔مگران کے سلسلہ کا آخری پیغمبر تھا جو موسیٰ کے بعد چودھویں صدی میں ظاہر ہوا۔(۱۵) پندرھویں خصوصیت یہ کہ یسوع بن مریم کے وقت میں جو قیصر تھا اس کے عہد میں بہت سی نئی باتیں رعایا کے آرام اور ان کے سفر و حضر کی سہولت کے لئے نکل آئی تھیں۔سڑکیں بنائی گئی تھیں اور سرائیں تیار کی گئی تھیں اور عدالت کے نئے طریقے وضع کئے گئے تھے جوانگریزی عدالت سے مشابہ تھے(۱۲) سولہویں خصوصیت مسیح میں یہ تھی کہ بن باپ پیدا ہونے میں آدم سے مشابہ تھے۔یہ سولہ خصوصیتیں ہیں جو موسوی سلسلہ میں حضرت عیسی علیہ السلام