فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 207 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 207

تذكرة الشهادتين 207 فلسطین سے کشمیر تک فكيف صعد إلى السماء قبل تأدية فرضه وتكميل دعوته؟ هذا باطل عند جستجو نمودہ ہدایت بکند۔پس قبل از ادائے این فرض منصبی و تکمیل دعوت خود بر آسمان چگونه صعود نمود که عند العقل النُّهى محض باطل است۔(مواہب الرحمن - روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 298 تا 300) تذکرۃ الشہادتین (1903ء) یہ وہ باتیں تھیں جو میں نے صاحبزادہ مولوی عبداللطیف صاحب سے کیں اور وہ امر جو آخر میں ان کو سمجھایا وہ یہ تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام میں مذہبی پہلو کے رُو سے سولہ ۱۹ خصوصیتیں ہیں (۱) اول یہ کہ وہ بنی اسرائیل کے لئے ایک موعود نبی تھا جیسا کہ اس پر اسرائیلی نبیوں کے صحیفے گواہ ہیں۔(۲) دوسری یہ کہ مسیح ایسے وقت میں آیا تھا جبکہ یہودی اپنی سلطنت کھو چکے تھے یعنی اس ملک میں یہودیوں کی کوئی سلطنت نہیں رہی تھی گوممکن تھا کہ کسی اور ملک میں جہاں بعض فرقے یہود کے چلے گئے تھے کوئی حکومت ان کی قائم ہوگئی ہو جیسا کہ سمجھا جاتا ہے کہ افغان اور ایسا ہی کشمیری بھی یہود میں سے ہیں جن کا اسلام قبول کرنے کے بعد سلاطین میں داخل ہونا ایک ایسا واقعہ ہے جس سے انکار نہیں ہوسکتا۔بہر حال حضرت مسیح کے ظہور کے وقت اس حصہ ملک سے یہود کی سلطنت جاتی رہی تھی اور وہ رومی سلطنت کے ماتحت زندگی بسر کرتے تھے اور رومی سلطنت کو انگریزی سلطنت سے بہت مشابہت تھی (۳) تیسری یہ کہ وہ ایسے وقت میں آیا تھا کہ جبکہ یہودی بہت سے فرقوں پر منقسم ہو چکے تھے اور ہر ایک فرقہ دوسرے فرقہ کا مخالف تھا اور ان سب میں با ہم سخت عناد اور خصومتیں پیدا ہو گئی تھیں اور توریت کے اکثر احکام باعث ان کے کثرت اختلافات کے مشتبہ ہو گئے تھے صرف وحدانیت الہی میں وہ باہم اتفاق رکھتے تھے باقی اکثر مسائل جزئیہ میں وہ ایک دوسرے کے دشمن تھے اور کوئی واعظ ان میں باہم صلح نہیں کرا سکتا تھا اور