فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 205

مواہب الرحمن 205 فلسطین سے کشمیر تک کہ ہم لکھ چکے ہیں ایسی عزت سے یہ تحریر دیکھی گئی ہے کہ ایک رقم کثیر اس کے عوض میں وارثان اُس مقدس راہب کو دی گئی ہے جس کے کتب خانہ سے بعد وفات یہ کاغذ برآمد ہوا اور ہمارے نزدیک اس کاغذ کی صحت پر ایک اور قوی دلیل ہے کہ ایسے شخص کے کتب خانہ سے یہ کاغذ نکلا ہے جو رومن کیتھولک عقیدہ رکھتا تھا اور نہ صرف حضرت عیسی کی خدائی کا قائل تھا بلکہ حضرت مریم کی خدائی کا بھی قائل تھا یہ کاغذات اُس نے محض ایک پُرانے تتبرکات میں رکھے ہوئے تھے اور چونکہ وہ پرانی عبرانی تھی اور طرز تحریر بھی پرانی تھی اس لئے وہ اس کے مضمون سے محض نا آشنا تھا۔یہ ایک نشان ہے ماسوا اس نئی شہادت کے جو حضرت پطرس کے خط میں سے نکلی ہے۔متقدمین میں بھی عیسائیوں کے بعض فرقے خود اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت عیسیٰ صلیب پر سے ایک موت کی سی سخت بیہوشی میں اُتارے گئے تھے اور ایک غار کے اندر تین دن کے علاج معالجہ سے تندرست ہو کر کسی اور طرف چلے گئے جہاں مدت تک زندہ رہے ان عقائد کا ذکر انگریزی کتابوں میں مفصل درج ہے جن میں سے کتاب نیو لائف آف جیزس مصنفہ سٹراس اور کتاب ماڈرن ڈوٹ اینڈ کرسچن بیلیف اور کتاب سوپر نیچرل ریچن کی بعض عبارتیں ہم نے اپنی کتاب تحفہ گولڑویہ میں درج کی ہیں۔(تحفۃ الندوۃ۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 102 تا 104 ) مواہب الرحمن (1903ء) ثم من الدلائل الوقائع التاريخية والشواهد التي جمعتها باز منجمله دلائل برموت عیسی واقعات تاریخیه اند و نیز آن شواهد که در کتب الكتب الطبية۔ومن تصفّح تلك الكتب التي زادت عدتها على الألف، طبیہ کہ زائد از ہزار خواهند بود جمع کرده شده اند و این کتب با از زمان پیشینیان تا این وقت مسلّم و وهي مشهورة مسلمة من السلف إلى الخلف، فلا بد له أن يشهد أن مرهم عيسى مشهوراند پس کسیکه این صدہا کتب را جستجو کرده مطالعه بکند بضرورت گواہی خواہد داد کہ برائے