فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 198 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 198

198 فلسطین سے کشمیر تک کشتی نوح پیلاطوس رومی کی کوشش سے مسیح ابن مریم کی جان بچ گئی اور جان بچنے کے لئے پہلے سے مسیح کی دعا منظور ہو چکی تھی۔دیکھو عبرانیاں باب ۵ آیت ۷۔بعد اس کے مسیح اُس زمین سے پوشیدہ طور پر بھاگ کر کشمیر کی طرف آ گیا اور وہیں فوت ہوا اور تم سن چکے ہو کہ سری نگر محلہ خان یار میں اُس کی قبر ہے یہ سب پیلاطوس کی سعی کا نتیجہ تھا لیکن تاہم اُس پہلے پیلاطوس کی کاروائی بزدلی کی رنگ آمیزی سے خالی نہ تھی اگر وہ اپنے اس قول کا پاس کر کے کہ میں اس شخص کا کوئی گناہ نہیں دیکھتا مسیح کو چھوڑ دیتا تو اس پر کچھ مشکل نہ تھا اور وہ چھوڑنے پر قادر تھا مگر وہ قیصر کی دوہائی سن کر ڈر گیا۔لیکن یہ آخری پیلاطوس پادریوں کے ہجوم سے نہ ڈرا حالانکہ اس جگہ بھی قیصرہ کی بادشاہی تھی لیکن یہ قیصرہ اُس قیصر سے بدرجہ ہا بہتر تھی اس لئے کسی کے لئے ممکن نہ تھا کہ حاکم پر دباؤ ڈالنے کے لئے اور انصاف چھڑانے کے لئے قیصرہ سے ڈراوے بہر حال پہلے مسیح کی نسبت آخری مسیح پر بہت شور اور منصوبہ اُٹھایا گیا تھا اور میرے مخالف اور ساری قوموں کے سرگروہ جمع ہو گئے تھے مگر آخری پیلاطوس نے سچائی سے پیار کیا اور اپنے اس قول کو پورا کر کے دکھلایا کہ جو اس نے مجھے مخاطب کر کے کہا تھا کہ میں تم پر خون کا الزام نہیں لگا تا سو اس نے مجھے بہت صفائی اور مردانگی سے بری کیا اور پہلے پیلاطوس نے مسیح کو بچانے کے لئے حیلوں سے کام لیا مگر اس پیلاطوس نے جو کچھ عدالت کا تقاضا تھا اُس طور سے اس تقاضا کو پورا کیا جس میں بزدلی کا رنگ نہ تھا۔جس دن میں بری ہوا اُس دن اس عدالت میں مکتی فوج کا ایک چور بھی پیش ہوا یہ اس لئے وقوع میں آیا کہ پہلے مسیح کے ساتھ بھی ایک چور تھا لیکن اس آخری مسیح کے ساتھ کے چور کو جو پکڑا گیا اُس پہلے چور کی طرح جو پہلے مسیح کے ساتھ پکڑا گیا صلیب پر نہیں چڑھایا اور نہ اس کی ہڈیاں توڑی گئیں بلکہ صرف تین ماہ کی قید ہوئی۔کشتی نوح - روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 56 تا 58) مسیح نے بطور پیشگوئی خود بھی کہا کہ بجز یونس کے نشان کے اور کوئی نشان دکھایا نہیں جائے گا پس مسیح نے اپنے اس قول میں یہ اشارہ کیا کہ جس طرح یونس زندہ ہی مچھلی کے پیٹ میں داخل ہوا اور زندہ ہی نکلا ایسا ہی میں بھی زندہ ہی قبر میں داخل ہوں گا اور زندہ ہی