فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 170
170 فلسطین سے کشمیر تک صوفیہ عظام نے اس فتوے پر اتفاق کر لیا اور مہریں لگا دیں مگر پھر بھی بعض عوام الناس میں سے جو تھوڑے ہی آدمی تھے حضرت مسیح کے ساتھ رہ گئے۔اُن میں سے بھی یہودیوں نے ایک کو کچھ رشوت دے کر اپنی طرف پھیر لیا اور دن رات یہ مشورے ہونے لگے کہ توریت کے نصوص صریحہ سے اس شخص کو کا فرٹھہرانا چاہئے تا عوام بھی یکدفعہ بیزار ہو جائیں اور اس کے بعض نشانوں کو دیکھ کر دھوکا نہ کھاویں۔چنانچہ یہ بات قرار پائی کہ کسی طرح اس کو صلیب دی جائے پھر کام بن جائے گا۔کیونکہ توریت میں لکھا ہے کہ جو لکڑی پر لٹکایا جائے وہ لعنتی ہے یعنی وہ شیطان کی طرف جاتا ہے نہ خدا کی طرف۔سو یہودی لوگ اس تدبیر میں لگے رہے اور جو شخص اس ملک کا حاکم قیصر روم کی طرف سے تھا اور بادشاہ کی طرح قائم مقام قیصر تھا اس کے حضور میں جھوٹی مخبریاں کرتے رہے کہ یہ شخص در پردہ گورنمنٹ کا بد خواہ ہے۔آخر گورنمنٹ نے مذہبی فتنہ اندازی کے بہانہ سے پکڑ ہی لیا مگر چاہا کہ کچھ تنبیہ کر کے چھوڑ دیں مگر یہود صرف اس قدر پر کب راضی تھے۔انہوں نے شور مچایا کہ اس نے سخت کفر بکا ہے قوم میں بلوا ہو جائے گا مفسدہ کا اندیشہ ہے اس کو ضرور صلیب ملنی چاہئے۔سورومی گورنمنٹ نے یہودیوں کے بلوہ سے اندیشہ کر کے اور کچھ مصلحت ملکی کو سوچ کر حضرت مسیح کو اُن کے حوالہ کر دیا کہ اپنے مذہب کے رو سے جو چاہو کرو اور پیلا طوس گورنر قیصر جس کے ہاتھ میں یہ سب کا روائی تھی اس کی بیوی کو خواب آئی کہ اگر یہ شخص مر گیا تو پھر اس میں تمہاری تباہی ہے۔اس لئے اس نے اندرونی طور پر پوشیدہ کوشش کر کے مسیح کو صلیبی موت سے بچا لیا مگر یہود اپنی حماقت سے یہی سمجھتے رہے کہ مسیح صلیب پر مر گیا۔حالانکہ حضرت مسیح خدا تعالیٰ کا حکم پا کر جیسا کہ کنز العمال کی حدیث میں ہے اس ملک سے نکل گئے اور وہ تاریخی ثبوت جو ہمیں ملے ہیں اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ نصیبین سے ہوتے ہوئے پشاور کی راہ سے پنجاب میں پہنچے اور چونکہ سرد ملک کے باشندے تھے اس لئے اس ملک کی شدت گرمی کا تحمل نہ کر سکے لہذا کشمیر میں پہنچ گئے اور سری نگر کو اپنے وجود باجود سے شرف بخشا اور کیا تعجب کہ انہی کے زمانہ میں یہ شہر آباد بھی ہوا ہو۔بہر حال سری نگر کی زمین مسیح کے قدم رکھنے کی جگہ ہے۔غرض حضرت مسیح تو سیاحت