فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 162 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 162

162 فلسطین سے کشمیر تک تریاق القلوب واقع ہے کہ اس درجہ پر وفادار بندوں کی دعا پہنچ کر ضرور قبول ہو جایا کرتی ہے۔پھر مسیح کی دا کو کیا بلا پیش آئی کہ نہ تو وہ قبول ہوئی اور نہ انہیں پہلے ہی سے اطلاع دی گئی کہ یہ دعا قبول نہیں ہوگی اور نتیجہ یہ ہوا کہ بقول عیسائیوں کے خدا کی اس خاموشی سے مسیح سخت حیرت میں پڑا یہاں تک کہ جب صلیب پر چڑھایا گیا تو بے اختیار عالم نومیدی میں بول اُٹھا کہ ايلى ايلى لما سبقتانی یعنی اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔غرض میں نے اپنی کتابوں سے حق کے طالبوں کو اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ پہلے اس بات کو ذہن میں رکھ کر کہ مقبولوں کی اوّل علامت مستجاب الدعوات ہونا ہے خاص کر اس حالت میں جب کہ اُن کا دردِ دل نہایت تک پہنچ جائے پھر اس بات کو سوچیں کہ کیونکر ممکن ہے کہ باوجود یکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے مارے غم کے بے جان اور ناتوان ہوکر ایک باغ میں جو پھل لانے کی جگہ ہے بکمال در دساری رات دعا کی اور کہا کہ اے میرے باپ اگر ممکن ہو تو یہ پیالہ مجھ سے ٹال دیا جائے مگر پھر بھی با ایں ہمہ سوز و گداز اپنی دعا کا پھل دیکھنے سے نامراد رہا۔یہ بات عارفوں اور ایمانداروں کے نزدیک ایسی جھوٹ ہے جیسا کہ دن کو کہا جائے کہ رات ہے یا اُجالے کو کہا جائے کہ اندھیرا ہے یا چشمہ شیریں کو کہا جائے کہ تلخ اور شور ہے۔جس دعا میں رات کے چار پہر برابر سوز و گداز اور گریہ وزاری اور سجدات اور جانکا ہی میں گذریں کبھی ممکن نہیں کہ خدائے کریم ورحیم ایسی دعا کو نامنظور کرے۔خاص کر وہ دعا جو ایک مقبول کے منہ سے نکلی ہو۔پس اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح کی دعا قبول ہو گئی تھی اور اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کی نجات کے لئے ایسے اسباب پیدا کر دیئے تھے جو اُس کی رہائی کے لئے قطعی اسباب تھے۔از انجملہ ایک یہ کہ پیلاطوس کی بیوی کو فرشتہ نے خواب میں کہا کہ اگر یسوع سولی پر مر گیا تو اس میں تمہاری تباہی ہے اور اس بات کی خدا تعالیٰ کی کتابوں میں کوئی نظیر نہیں ملتی کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی کو خواب میں فرشتہ کہے کہ اگر ایسا کام نہیں کرو گے تو تم تباہ ہو جاؤ گے اور پھر فرشتہ کے کہنے کا ان کے دلوں پر کچھ بھی اثر نہ ہواور وہ کہنا رائگاں جائے۔اور اسی طرح یہ بات بھی سراسر فضول اور جھوٹ معلوم ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کا تو یہ پختہ ارادہ ہو کہ وہ