فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 161 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 161

تریاق القلوب 161 فلسطین سے کشمیر تک شیطان کو ہمیشہ کے لئے ہلاک کیا ہے۔لیکن موجودہ انجیلوں میں سے وہ انجیلیں بھی اب تک موجود ہیں جیسا کہ انجیل برنباس جس میں حضرت مسیح علیہ السلام کے سولی ملنے سے انکار کیا گیا ہے اور ان چار انجیلوں کو دوسری انجیلوں پر کچھ ترجیح نہیں کیونکہ یہ سب انجیلیں حواریوں کے زمانہ کے بعد بعض یونان کے لوگوں نے بے سروپا روایات کی بنا پر لکھیں ہیں اور ان میں حضرت مسیح کے ہاتھوں کی کوئی انجیل نہیں بلکہ حواریوں کے ہاتھوں کی بھی کوئی انجیل نہیں اور یہ بات قبول کی گئی ہے کہ انجیل کا عبرانی نسخہ دنیا سے مفقود ہے۔ماسوا اس کے یہ چاروں انجیلیں جو چوسٹھ انجیلوں میں سے محض تحکم کے طور پر اختیار کی گئی ہیں اُن کے بیانات سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح صلیب پر فوت نہیں ہوا۔چنانچہ ہم اپنے رسالہ مسیح ہند میں میں اس بحث کو صفائی سے طے کر چکے ہیں۔اور ان انجیلوں سے یہ بھی ثابت ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام ایک باغ میں اپنی رہائی کے لئے تمام رات دعا کرتے رہے اور اس غرض اور مدعا سے کہ کسی طرح سولی سے بچ جائیں ساری رات رونے اور گڑ گڑانے اور سجدہ کرنے میں گزری۔اور یہ غیر ممکن ہے کہ جس نیک انسان کو یہ توفیق دی جائے کہ تمام رات در ددل سے کسی بات کے ہو جانے کے لئے دعا کرے اور اُس دعا کے لئے اس کو پورا جوش عطا کیا جائے اور پھر وہ دعا نا منظور اور نا مقبول ہو۔جب سے کہ دنیا کی بنیاد پڑی اُس وقت سے آج تک اس کی نظیر نہیں ملی۔اور خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں میں بالا تفاق یہ گواہی پائی جاتی ہے کہ راستبازوں کی دعا قبول ہوتی ہے اور اُن کے کھٹکھٹانے پر ضرور کھولا جاتا ہے۔پھر مسیح کی دعا کو کیا روک پیش آئی کہ باوجود ساری رات کی گریہ وزاری اور شور وغوغا کے رڈی کی طرح پھینک دی گئی اور قبول نہ ہوئی۔کیا خدا تعالیٰ کی کتابوں میں اس واقعہ کی کوئی اور نظیر بھی ہے کہ کوئی مسیح جیسا راستباز یا اس سے کمتر تمام رات رورو کر اور جگر پھاڑ کر دعا کرے اور بیقراری سے بے ہوش ہوتا جائے اور خود اقرار کرے کہ میری جان گھٹ رہی ہے اور میرا دل گرا جاتا ہے اور پھر ایسی دردناک دعا قبول نہ ہو؟ ہم دیکھتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ ہماری کوئی دعا قبول کرنا نہیں چاہتا تو جلد ہمیں اطلاع بخشتا ہے اور اُس دردناک حالت تک ہمیں نہیں پہنچا تا جس میں اس کا قانونِ قدرت یہی