فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 151
مسیح ہندوستان میں 151 فلسطین سے کشمیر تک (افغان) فارسیوں، تاتاریوں اور ہندیوں سے ایک جدا قوم ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ صرف یہی بات اس بیان کو معتبر ٹھہراتی ہے جس کی مخالفت بہت سے قوی واقعات کرتے ہیں اور جس کا کوئی صاف ثبوت نہیں ملتا۔اگر ایک قوم کی دوسری قوم کے ساتھ شکل و وضع میں مشابہت رکھنے سے کوئی نتیجہ نکل سکتا ہے تو کشمیری اپنے یہودیوں والے خط و خال کی وجہ سے یقیناً یقیناً یہودی الاصل ثابت ہوں گے اور اس بات کا صرف بر نیر نے ہی نہیں بلکہ فارسٹر اور شاید دیگر محققوں نے ذکر کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔اگر چہ فارسٹر بر نیر کی رائے کو تسلیم نہیں کرتا تاہم وہ اقرار کرتا ہے کہ جب وہ کشمیریوں میں تھا تو اس نے خیال کیا کہ وہ ایک یہودیوں کی قوم کے درمیان رہتا ہے۔اور کتاب ڈکشنری آف جیوگرافی مرتبہ اے کے جانسٹن کے صفحہ ۲۵۰ میں کشمیر کے لفظ کے بیان میں یہ عبارت ہے:۔یہاں کے باشندے دراز قد ، قوی ہیکل، مردانہ شباہت والے، عورتیں مکمل اندام والیس، خوبصورت ، بلند خمدار بینی والے ، شکل و وضع میں بالکل یہودیوں کے مشابہ ہیں۔اور سول اینڈ ملٹری گزٹ ( مطبوعہ ۲۳ / نومبر ۱۸۹۸ء صفحریه ) میں بعنوان مضمون سواتی اور آفریدی (اقوام ) لکھا ہے کہ ہمیں ایک اعلیٰ درجہ کا قیمتی اور دلچسپ مضمون ملا ہے جو برٹش ایسوسی ایشن کے ایک حال کے جلسہ میں ایسوسی ایشن مذکورہ کی شاخ متعلقہ تاریخ طبعی نوع انسان میں پیش کیا گیا ہے اور جو کمیٹی تحقیقات تاریخ طبعی انسان کے موسم سرما کے جلسہ میں ابھی سنایا جاتا ہے۔ہم وہ کمل مضمون ذیل میں درج کرتے ہیں۔ہندوستان کی مغربی سرحد کے پٹھان یا پکٹان باشندوں کا حال قدیمی تاریخوں میں موجود ہے اور بہت سے فرقوں کا ذکر ہیروڈوٹس نے اور سکندراعظم کے تاریخ نویسوں نے کیا ہے۔وسطی زمانہ میں اس پہاڑ کا غیر آباد اور ویرانہ کا نام روہ تھا۔اور اس علاقہ کے باشندوں کا نام رہیلہ تھا اور اس میں شک نہیں کہ یہ رسیلے یا پٹھان قوم افغانان کے نام و نشان سے پہلے ان علاقوں میں آباد تھے۔اب سارے افغان پٹھانوں میں شمار کئے جاتے ہیں کیونکہ وہ پٹھانی زبان یعنی پشتو بولتے ہیں۔لیکن وہ ان سے کسی رشتہ کا اقرار SWATIS AND AFRIDIS by Sir Thomas Holdich, The Civil and Military 00 1000