فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 149 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 149

149 مسیح ہندوستان میں فلسطین سے کشمیر تک پر قبضہ کر لیا اور اقوام بنی اسرائیل کو جلا وطن کر کے غور، غزنی، کابل، قندہار اور کوہ فیروز کے کو ہستانی علاقوں میں لا بسایا جہاں خاص کر آصف اور افغان کی اولا درہ پڑی۔باب سوم میں یہ بیان ہے کہ بخت نصر نے جب بنی اسرائیل کو شام سے نکال دیا تو آصف اور افغان کی نسل کے چند قبائل عرب میں جاگزین ہوئے۔اور عرب ان کو بنی اسرائیل اور بنی افغان کے ناموں سے نامزد کرتے تھے۔اور اس کتاب کے صفحہ ۱۳۷ ۳۸ مصنف مجمع الانساب اور مستوفی مصنف تاریخ گزیدہ کے حوالہ سے تفصیلاً بیان کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حین حیات میں خالد بن ولید نے ان افغانوں کی طرف دعوت اسلام کا پیغام بھیجا جو بخت نصر کے واقعہ کے بعد غور کے علاقہ ہی میں رہ پڑے تھے۔افغان سردار بسر براہی قیس جو ۳۷ پشتوں کے بعد طالوت کی اولاد تھا حاضر خدمت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے۔قیس کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرشید رکھا۔(اس جگہ عبدالرشید قیس کا شجرہ نسب طالوت (سال) تک دیا ہے)۔نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سرداروں کا نام پٹھان رکھا جس کے معنی سُگان جہاز کے ہیں۔کچھ عرصہ کے بعد سردار واپس اپنے ملک میں آئے اور اسلام کی تبلیغ کی۔اور اسی کتاب مخزن افغانی کے صفحہ ۶۳ میں لکھا ہے کہ بنی افغنہ یا بنی افغان ناموں کی نسبت فرید الدین احمد اپنی کتاب رسالہ انساب افغانیہ میں مفصلہ ذیل عبارت لکھتا ہے:۔”بخت نصر مجوسی جب بنی اسرائیل اور شام کے علاقوں پر مستولی ہوا اور یروشلم کو تباہ کیا تو بنی اسرائیل کو قیدی اور غلام بنا کر جلا وطن کر دیا اور اس قوم کے کئی قبیلے جو موسوی شریعت کے پابند تھے اپنے ساتھ لے گیا اور حکم دیا کہ وہ آبائی مذہب چھوڑ کر خدا کی بجائے اس کی پرستش کریں۔لیکن انہوں نے انکار کیا۔بنا بریں بخت نصر نے نہایت عاقل اور فہیم لوگوں میں سے دو ہزار کو مار ڈالا اور باقیوں کے لئے حکم دیا کہ اس کے مقبوضات اور شام سے کہیں باہر چلے جائیں۔ان کا ایک حصہ ایک سردار کے ماتحت بخت نصر کے مقبوضات سے نکل کر کو ہستان غور میں چلا گیا اور یہاں ان کی اولا درہ پڑی۔دن بدن ان کی تعداد بڑھتی گئی اور لوگوں نے ان کو بنی اسرائیل بنی آصف اور بنی افغان کے ناموں سے موسوم کیا۔