فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 144
144 فلسطین سے کشمیر تک مسیح ہندوستان میں آیا۔افغانوں کا قول ہے کہ قیس نے خالد بن ولید کی لڑکی سے نکاح کیا اور اس سے اس کے ہاں تین لڑکے پیدا ہوئے جن کا نام سرابان، پطان، اور گرگشت ہیں۔سرابان کے دو لڑکے تھے جن کا نام سچر ج یئن اور کرش ین ہیں۔اور ان ہی کی اولا دافغان یعنی بنی اسرائیل کہلاتے ہیں۔ایشیا کو چک کے لوگ اور مغربی اسلامی مؤرخ افغانوں کو سلیمانی کہتے ہیں۔اور کتاب سائیکلو پیڈیا آف انڈیا ایسٹرن اینڈ سدرن ایشیا مصنفه ای بیلفور جلد سوم میں لکھا ہے کہ قوم یہود ایشیا کے وسط جنوب اور مشرق میں پھیلی ہوئی ہیں۔پہلے زمانہ میں یہ لوگ ملک چین میں بکثرت آباد تھے اور مقام یہ چو( صدر مقام ضلع شو ) ان کا معبد تھا۔ڈاکٹر وولف جو بنی اسرائیل کے دس غائب شدہ فرقوں کی تلاش میں بہت مدت پھرتا رہا اس کی یہ رائے ہے کہ اگر افغان اولاد یعقوب میں سے ہیں تو وہ یہودا اور بن یمین قبیلوں میں سے ہیں۔ایک اور روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ یہودی لوگ تا تار میں جلا وطن کر کے بھیجے گئے تھے اور بخارا۔مرد اور خیوا کے متعلقہ علاقوں میں بڑی تعداد میں موجود تھے۔پرسٹر جان شہنشاہ تا تار نے ایک خط میں جو بنام الکسیس کام نی نس" شہنشاہ قسطنطنیہ ارسال کیا تھا اپنے ملک تا تار کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس دریا ( آموں) کے پار بنی اسرائیل کے دس قبیلے ہیں جو اگر چہ اپنے بادشاہ کے ماتحت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن فی الحقیقت ہماری رعیت اور غلام ہیں۔ڈاکٹر مور کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ تا تاری قوم چوزن " یہودی الاصل ہیں۔اور ان میں اب تک یہودی مذہب کے قدیم آثار پائے جاتے ہیں چنانچہ وہ ختنہ کی رسم ادا کرتے ہیں۔افغانوں میں یہ روایت ہے کہ وہ دس گم شدہ بنی اسرائیلی قبائل ہیں۔بادشاہ بخت نصر نے یروشلم کی تباہی کے بعد گرفتار کر کے غور کے ملک میں بسایا جو بامیان کے نزدیک ہے اور وہ خالد بن ولید کے آنے سے پہلے برابر یہودی مذہب کے پابند ر ہے۔افغان شکل و شباہت میں ہر طرح سے یہود نظر آتے ہیں اور ان ہی کی طرح چھوٹا بھائی بڑے بھائی کی بیوہ سے شادی کرتا ہے۔ایک فرانسیسی سیاح فرائرے نامی جب ہرات کے علاقہ میں سے گذر رہا تھا تو اس نے لکھا ہے کہ اس علاقہ میں بنی اسرائیل بکثرت ہیں 1۔Edward Balfour, 2۔Dr۔Wolff, 3۔Prester John, 4۔Alexius Comnenus, the