فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 142
فلسطین سے کشمیر تک 142 مسیح ہندوستان میں تک وہ ایسا نہ کرتے تب تک ان کی رسالت کی غرض بے نتیجہ اور نامکمل تھی کیونکہ جس حالت میں وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اُن گمشدہ بھیڑوں کی طرف بھیجے گئے تھے تو پھر بغیر اس کے کہ وہ اُن بھیڑوں کے پیچھے جاتے اور ان کو تلاش کرتے اور ان کو طریق نجات بتلاتے یونہی دنیا سے کوچ کر جانا ایسا تھا کہ جیسا کہ ایک شخص ایک بادشاہ کی طرف سے مامور ہو کہ فلاں بیابانی قوم میں جا کر ایک کنواں کھودے اور اس کنویں سے ان کو پانی پلاوے۔لیکن یہ شخص کسی دوسرے مقام میں تین چار برس رہ کر واپس چلا جائے اور اس قوم کی تلاش میں ایک قدم بھی نہ اٹھائے تو کیا اس نے بادشاہ کے حکم کے موافق تعمیل کی ؟ ہر گز نہیں۔بلکہ اس نے محض اپنی آرام طلبی کی وجہ سے اس قوم کی کچھ پرواہ نہ کی۔ہاں اگر یہ سوال ہو کہ کیونکر اور کس دلیل سے معلوم ہوا کہ اسرائیل کی دس قو میں اس ملک میں آگئی تھیں تو اس کے جواب میں ایسے بدیہی ثبوت موجود ہیں کہ ان میں ایک معمولی اور موٹی عقل بھی شبہ نہیں کر سکتی۔کیونکہ یہ نہایت مشہور واقعات ہیں کہ بعض قو میں مثلاً افغان اور کشمیر کے قدیم باشندے در اصل بنی اسرائیل ہیں مثلاً الائی کو ہستان جو ضلع ہزارہ سے دو تین دن کے راستہ پر واقع ہے اس کے باشندے قدیم سے اپنے تئیں بنی اسرائیل کہلاتے ہیں۔ایسا ہی اس ملک میں ایک دوسرا پہاڑ ہے جس کو کالا ڈا کہ کہتے ہیں اس کے باشندے بھی اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہم بنی اسرائیل ہیں اور خاص ضلع ہزارہ میں بھی ایک قوم ہے جو اسرائیلی خاندان سے اپنے تئیں سمجھتے ہیں ایسا ہی چلاس اور کابل کے درمیان جو پہاڑ ہیں جنوب کی طرف شرقاً وغرباً ان کے باشندے بھی اپنے تئیں بنی اسرائیل کہلاتے ہیں۔اور کشمیر کے باشندوں کی نسبت وہ رائے نہایت صحیح ثابت ہوتی ہے جو ڈاکٹر بر نیر نے اپنی کتاب سیر و سیاحت کشمیر کے دوسرے حصے میں بعض محقق انگریزوں کے حوالہ سے لکھی ہے۔یعنی یہ کہ بلا شبہ کشمیری لوگ بنی اسرائیل ہیں اور ان کے لباس اور چہرے اور بعض رسوم قطعی طور پر فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیلی خاندان میں سے ہیں۔اور فارسٹر نامی ایک انگریز اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ جب میں کشمیر میں تھا تو میں نے خیال کیا کہ میں ایک یہودیوں کی قوم کے درمیان رہتا ہوں۔اور کتاب دی ریسز آف افغانستان 1۔Francis Bernier, 2۔George Forster