فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 133
133 فلسطین سے کشمیر تک مسیح ہندوستان میں ابھی آنا ہے یعنی میرے بعد اس ملک میں وہ آئے گا جس کا نام متیا ہوگا اور وہ سفید رنگ ہوگا۔پھر آگے وہ انگریز مصنف لکھتا ہے کہ متیا کے نام کو مسیحا سے حیرت انگیز مشابہت ہے۔غرض اس پیشگوئی میں گوتم بدھ نے صاف طور پر اقرار کر دیا ہے کہ اس کے ملک میں اور اس کی قوم میں اور اس پر ایمان لانے والوں میں مسیحا آنے والا ہے یہی وجہ تھی کہ اس کے مذہب کے لوگ ہمیشہ اس انتظار میں تھے کہ ان کے ملک میں مسیحا آئے گا۔اور بدھ نے اپنی پیشگوئی میں اس آنے والے بدھ کا نام بگو امتیا اس لئے رکھا کہ بگواسنسکرت زبان میں سفید کو کہتے ہیں۔اور حضرت مسیح چونکہ بلا دشام کے رہنے والے تھے اس لئے وہ بگوا یعنی سفید رنگ تھے۔جس ملک میں یہ پیشگوئی کی گئی تھی یعنی مگدھ کا ملک جہاں راجہ گر یہا واقع تھا اس ملک کے لوگ سیاہ رنگ تھے اور گوتم بدھ خود سیاہ رنگ تھا۔اس لئے بدھ نے آنے والے بدھ کی قطعی علامت ظاہر کرنے کے لئے دو باتیں اپنے مریدوں کو بتلائی تھیں۔ایک یہ کہ وہ بگوا ہو گا۔دوسرے یہ کہ وہ متیا ہوگا یعنی سیر کرنے والا ہوگا اور باہر سے آئے گا۔سو ہمیشہ وہ لوگ انہی علامتوں کے منتظر تھے جب تک کہ انہوں نے حضرت مسیح کو دیکھ لیا۔یہ عقیدہ ضروری طور پر ہر ایک بدھ مذہب والے کا ہونا چاہئیے کہ بدھ سے پانسو۵۰۰ برس بعد بگو امتیا ان کے ملک میں ظاہر ہوا تھا۔سو اس عقیدہ کی تائید میں کچھ تعجب نہیں ہے کہ بدھ مذہب کی بعض کتابوں میں متیا یعنی مسیحا کا ان کے ملک میں آنا اور اس طرح پر پیشگوئی کا پورا ہو جانا لکھا ہوا ہو۔اور اگر یہ فرض بھی کر لیں کہ لکھا ہوا نہیں ہے تب بھی جبکہ بدھ نے خدائے تعالیٰ سے الہام پا کر اپنے شاگردوں کو یہ امید دی تھی کہ بگوا منتیا ان کے ملک میں آئے گا۔اس بنا پر کوئی بدھ مت والا جو اس پیشگوئی پر اطلاع رکھتا ہواس واقعہ سے انکار نہیں کر سکتا کہ وہ بگوا متیا جس کا دوسرا نام مسیحا ہے اس ملک میں آیا تھا کیونکہ پیشگوئی کا باطل ہونا مذہب کو باطل کرتا ہے۔اور ایسی پیشگوئی جس کی میعاد بھی مقر رتھی اور گوتم بدھ نے بار بار اس پیشگوئی کو اپنے مریدوں کے پاس بیان کیا تھا۔اگر وہ اپنے وقت پر پوری نہ ہوتی تو بدھ کی جماعت گوتم بدھ کی سچائی کی نسبت شبہ میں پڑ جاتی اور ایک ہزا رو پانچ ہزار سال والی میعاد میں غلط ہیں۔منہ