فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 134
134 فلسطین سے کشمیر تک مسیح ہندوستان میں کتابوں میں یہ بات لکھی جاتی کہ یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور اس پیشگوئی کے پورا ہونے پر ہمیں ایک اور دلیل یہ ملتی ہے کہ تبت میں ساتویں صدی عیسوی کی وہ کتابیں دستیاب ہوئی ہیں جن میں مسیح کا لفظ موجود ہے یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کا نام لکھا ہے اور اس لفظ کو مِی شِی ھو کر کے ادا کیا ہے۔اور وہ فہرست جس میں مِی شِيْ هُو پایا گیا ہے اس کا مرتب کرنے والا ایک بدھ مذہب کا آدمی ہے۔دیکھو کتاب اے ریکارڈ آف دی بدھسٹ ریچن مصنفہ آئی سنگ مترجم جی ٹکا کو سول اور جی ٹکا کو سو ایک جاپانی شخص ہے جس نے آئی سنگ کی کتاب کا ترجمہ کیا ہے۔اور آئی سنگ ایک چینی سیاح ہے جس کی کتاب کے حاشیہ پر اور ضمیمہ میں ٹکا کوسونے تحریر کیا ہے کہ ایک قدیم تالیف میں منی شنی هو (مسیح) کا نام درج ہے اور یہ تالیف قریباً ساتویں صدی کی ہے اور پھر اس کا ترجمہ حال میں ہی کلیرنڈن پرلیں آکسفورڈ میں جی ٹکا کو سو نام ایک جاپانی نے کیا۔* غرض اس کتاب میں مشیح کا لفظ موجود ہے جس سے ہم یہ یقین سمجھ سکتے ہیں کہ یہ لفظ بُدھ مذہب والوں کے پاس باہر سے نہیں آیا بلکہ بدھ کی پیشگوئی سے یہ لفظ لیا گیا ہے جس کو کبھی انہوں نے مشیح کر کے لکھا اور کبھی بگوا متیا کر کے۔اور منجملہ ان شہادتوں کے جو بُدھ مذہب کی کتابوں سے ہم کو ملی ہیں ایک یہ ہے کہ بدھ ایزم مصنفہ سر مونیر ولیم صفحہ ۴۵ میں لکھا ہے کہ چھٹائر ید بدھ کا ایک شخص تھا جس کا نام یسا تھا۔یہ لفظ یسوع کے لفظ کا مخفف معلوم ہوتا ہے۔چونکہ حضرت مسیح علیہ السلام بدھ کی وفات سے پانچسو برس گزرنے کے بعد یعنی چھٹی صدی میں پیدا ہوئے تھے اس لئے چھٹا مرید کہلائے۔یادر ہے کہ پروفیسر میکسمولر اپنے رسالہ نائن مینتھ سنچری کے اکتوبر ۱۸۹۴ صفحه ۵۱۷ میں گذشتہ بالا مضمون کی ان الفاظ سے تائید کرتے ہیں کہ یہ خیال کئی دفعہ ہر دل عزیز مصنفوں نے پیش کیا ہے کہ مسیح پر بدھ مذہب کے اصولوں نے اثر ڈالا تھا اور پھر لکھتے ہیں کہ آج تک اس وقت کے حل کرنے کے لئے کوشش ہو رہی ہے کہ کوئی ایسا سچا تاریخی راستہ معلوم ہو جائے جس کے ذریعہ سے بدھ مذہب مسیح کے زمانہ میں فلسطین میں پہنچ سکا ہو اب اس عبارت سے بدھ مذہب کی ان کتابوں کی تصدیق ہوتی ہے جن میں لکھا دیکھو صفحہ ۱۶۹و۲۲۳ کتاب حذا۔منہ ہے 1۔A Record of the Buddhist Religion by I۔Tsing, translated by J۔Tikakusu