فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 131 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 131

مسیح ہندوستان میں 131 فلسطین سے کشمیر تک ہوئے ہیں اور جیسا کہ بدھ نے اپنے مذہب کے زوال کی مدت مقرر کی تھی۔ایسا ہی اس وقت بدھ کا مذہب زوال کی حالت میں تھا۔تب حضرت مسیح نے صلیب کے واقعہ سے نجات پاکر اس ملک کی طرف سفر کیا اور بدھ مذہب والے اُن کو شناخت کر کے بڑی تعظیم سے پیش آئے۔اور اس میں کوئی بھی شک نہیں کر سکتا کہ وہ اخلاقی تعلیمیں اور وہ روحانی طریقے جو بدھ نے قائم کئے تھے حضرت مسیح کی تعلیم نے دوبارہ دنیا میں ان کو جنم دیا ہے۔عیسائی مؤرخ اس بات کو مانتے ہیں کہ انجیل کی پہاڑی تعلیم اور دوسرے حصوں کی تعلیم جو اخلاقی امور پر مبنی ہے یہ تمام تعلیم وہی ہے جس کو گوتم بدھ حضرت مسیح سے پانس ۵۰۰ برس پہلے دنیا میں رائج کر چکا تھا وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بدھ صرف اخلاقی تعلیموں کا سکھلانے والا نہیں تھا بلکہ وہ اور بھی بڑی بڑی سچائیوں کا سکھلانے والا تھا۔اور ان کی رائے میں بدھ کا نام جو ایشیا کا نور رکھا گیا وہ عین مناسب ہے۔اب۔۔۔بدھ کی پیشگوئی کے موافق حضرت مسیح پانسو برس کے بعد ظاہر ہوئے اور حسب اقرارا اکثر علماء عیسائیوں کے ان کی اخلاقی تعلیم بعینہ بدھ کی تعلیم تھی تو اس میں کچھ شک نہیں ہوسکتا کہ وہ بدھ کے رنگ پر ظہور فرما ہوئے تھے۔اور کتاب اولڈن برگ میں بحوالہ بدھ کی کتاب لکاوتی ستنا کے لکھا ہے کہ بدھ کے معتقد آئندہ زمانہ کی امید پر ہمیشہ اپنے تئیں تسلی دیتے تھے کہ وہ متیا کے شاگرد بن کر نجات کی خوشحالی حاصل کریں گے یعنی ان کو یقین تھا کہ متیا ان میں آئے گا اور وہ اس کے ذریعہ سے نجات پائیں گے۔کیونکہ جن لفظوں میں بدھ نے ان کو متیا کی امید دی تھی وہ لفظ صریح دلالت کرتے تھے کہ اس کے شاگر د متیا کو پائیں گے۔اب کتاب مذکور کے اس بیان سے بخوبی یہ بات دلی یقین کو پیدا کرتی ہے کہ خدا نے ان لوگوں کی ہدایت کے لئے دونوں طرف سے اسباب پیدا کر دیئے تھے یعنی ایک طرف تو حضرت مسیح بوجہ اپنے اس نام کے جو پیدائش باب ۳ آیت ۱۰ سے سمجھا جاتا ہے۔یعنی آسف جس کا ترجمہ ہے جماعت کو اکٹھا کرنے والا یہ ضروری تھا کہ اس ملک کی طرف آتے جس میں یہودی آکر آباد ہوئے تھے۔اور دوسری طرف یہ بھی ضروری تھا کہ حسب منشاء بدھ کی پیشگوئی کے بدھ کے معتقد آپ کو دیکھتے اور آپ سے فیض اٹھاتے۔سوان دونوں باتوں کو یکجائی پیدائش باب 3 آیت 10 سہو ہے۔درست حوالہ پیدائش باب 49 آیت 10 ہے