فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 130
130 فلسطین سے کشمیر تک مسیح ہندوستان میں داغ نہیں لگا سکتا۔یہ فقرہ بھی حضرت مسیح کے قول سے مشابہ ہے اور بدھ ازم کی کتاب کے صفحہ ۴۵ میں لکھا ہے کہ بدھ کی اخلاقی تعلیم اور عیسائیوں کی اخلاقی تعلیم میں بڑی بھاری مشابہت ہے۔میں اس کو مانتا ہوں۔میں یہ مانتا ہوں کہ وہ دونوں ہمیں بتاتی ہیں کہ دنیا سے محبت نہ کرو۔روپیہ سے محبت نہ کرو۔دشمنوں سے دشمنی مت کرو۔بُرے اور نا پاک کام مت کرو۔بدی پر نیکی کے ذریعہ سے غالب آؤ۔اور دوسروں سے وہ سلوک کرو جو تم چاہتے ہو کہ وے تم سے کریں۔یہ اس قدر انجیلی تعلیم اور بدھ کی تعلیم میں مشابہت ہے کہ تفصیل کی ضرورت نہیں۔بدھ مذہب کی کتابوں سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ گوتم بدھ نے ایک اور آنے والے بدھ کی نسبت پیشگوئی کی تھی جس کا نام منتیا بیان کیا تھا۔یہ پیشگوئی بدھ کی کتاب لگاوتی سکتا میں ہے جس کا حوالہ کتاب اولڈن برگ کے صفحہ ۱۴۲ میں دیا گیا ہے۔اس پیشگوئی کی عبارت یہ ہے ”متیا لاکھوں مریدوں کا پیشوا ہوگا جیسا کہ میں اب سینکڑوں کا ہوں“۔اس جگہ یادر ہے کہ جو لفظ عبرانی میں مشیحا ہے وہی پالی زبان میں منیا کر کے بولا گیا ہے۔یہ تو ایک معمولی بات ہے کہ جب ایک زبان کا لفظ دوسری زبان میں آتا ہے تو اس میں کچھ تغیر ہو جاتا ہے چنانچہ انگریزی لفظ بھی دوسری زبان میں آکر تغیر پا جاتا ہے جیسا کہ نظیر کے طور پر میکسمولر صاحب ایک فہرست میں جو کتاب سیکرڈ ( بکس ) آف دی ایسٹ سے جلد نمبر کے ساتھ شامل کی گئی ہے صفحہ ۳۱۸ میں لکھتا ہے کہ ٹی ایچ انگریزی زبان کا جو تھ کی آواز رکھتا ہے فارسی اور عربی زبانوں میں ث ہو جاتا ہے یعنی پڑھنے میں ث یاس کی آواز دیتا ہے۔سوان تغییرات پر نظر رکھ کر ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ مسیحا کا لفظ پالی زبان میں آ کر منتیا بن گیا۔یعنی وہ آنے والا متیا جس کی بدھ نے پیشگوئی کی تھی وہ درحقیقت مسیح ہے اور کوئی نہیں۔اس بات پر بڑا پختہ قرینہ یہ ہے کہ بدھ نے یہ پیشگوئی بھی کی تھی کہ جس مذہب کی اس نے بنیادرکھی ہے وہ زمین پر پانچ سو برس سے زیادہ قائم نہیں رہے گا۔اور جس وقت ان تعلیموں اور اصولوں کا زوال ہوگا۔تب متیا اس ملک میں آکر دوبارہ ان اخلاقی تعلیموں کو دنیا میں قائم کرے گا۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح پانسو برس بعد بدھ کے 1۔Buddha by Dr۔Herman Oldenberg, 2۔Sacred Books of the East