فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 129
مسیح ہندوستان میں 129 فلسطین سے کشمیر تک پس اس تمام مطابقت کا اصل باعث یہی ہے کہ بدھ مذہب والوں کی خوش قسمتی سے مسیح ہندوستان میں آیا اور ایک زمانہ دراز تک بُدھ مذہب والوں میں رہا اور اس کے سوانح اور اس کی پاک تعلیم پر انہوں نے خوب اطلاع پائی۔لہذا یہ ضروری امر تھا کہ بہت سا حصہ اس تعلیم اور رسوم کا ان میں جاری ہو جاتا کیونکہ ان کی نگاہ میں مسیح عزت کی نظر سے دیکھا گیا اور بدھ قرار دیا گیا۔اس لئے ان لوگوں نے اس کی باتوں کو اپنی کتابوں میں لکھا اور گوتم بدھ کی طرف منسوب کر دیا۔بدھ کا بعینہ حضرت مسیح کی طرح مثالوں میں اپنے شاگردوں کو سمجھانا خاص کر وہ مثالیں جو انجیل میں آچکی ہیں نہایت حیرت انگیز واقعہ ہے۔چنانچہ ایک مثال میں بدھ کہتا ہے کہ ” جیسا کہ کسان بیج بوتا ہے اور وہ نہیں کہہ سکتا کہ دانہ آج پھولے گا اور کل نکلے گا ایسا ہی مرید کا حال ہوتا ہے یعنی وہ کچھ بھی رائے ظاہر نہیں کر سکتا کہ اس کا نشو و نما اچھا ہوگا یا اس دانہ کی طرح ہوگا جو پتھریلی زمین میں ڈالا جائے اور خشک ہو جائے۔دیکھو بعینہ بیروہی مثال ہے جو انجیل میں اب تک موجود ہے۔اور پھر بڑھا ایک اور مثال دیتا ہے کہ ایک ہرنوں کا گلہ جنگل میں خوشحال ہوتا ہے تب ایک آدمی آتا ہے اور فریب سے وہ راہ کھولتا ہے جو ان کی موت کا راہ ہے یعنی کوشش کرتا ہے کہ ایسی راہ چلیں جس سے آخر پھنس جائیں اور موت کا شکار ہو جائیں۔اور دوسرا آدمی آتا ہے اور وہ اچھا راہ کھولتا ہے یعنی وہ کھیت ہوتا ہے تا اس میں سے کھائیں۔وہ نہر لاتا ہے تا اس میں سے پیویں اور خوشحال ہو جائیں ایسا ہی آدمیوں کا حال ہے وہ خوشحالی میں ہوتے ہیں شیطان آتا ہے اور بدی کی آٹھ راہیں ان پر کھول دیتا ہے تا ہلاک ہوں۔تب کامل انسان آتا ہے اور حق اور یقین اور سلامتی کی بھری ہوئی آٹھ راہیں ان پر کھول دیتا ہے تا وہ بچ جائیں۔بدھ کی تعلیم میں یہ بھی ہے کہ پر ہیز گاری وہ محفوظ خزانہ ہے جس کو کوئی چرا نہیں سکتا۔وہ ایسا خزانہ ہے کہ موت کے بعد بھی انسان کے ساتھ جاتا ہے۔وہ ایسا خزانہ ہے جس کے سرمایہ سے تمام علوم اور تمام کمال پیدا ہوتے ہیں۔اب دیکھو کہ بعینہ یہ انجیل کی تعلیم ہے اور یہ باتیں بدھ مذہب کی ان پرانی کتابوں میں پائی جاتی ہیں جن کا زمانہ حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانہ سے کچھ زیادہ نہیں ہے بلکہ وہی زمانہ ہے۔پھر اسی کتاب کے صفحہ ۱۳۵ میں ہے کہ بدھ کہتا ہے کہ میں ایسا ہوں کہ کوئی مجھ پر