فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 128 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 128

128 مسیح ہندوستان میں فلسطین سے کشمیر تک اس طرف اس نے بہت معجزات دکھائے۔اور اس نے ایک نہایت مؤثر وعظ ایک پہاڑی پر کیا۔جیسا کہ مسیح نے پہاڑی پر وعظ کیا تھا۔اور پھر اسی کتاب میں لکھا ہے کہ بدھ اکثر مثالوں میں وعظ کیا کرتا تھا اور ظاہری چیزوں کو لے کر روحانی امور کو ان میں پیش کیا کرتا تھا۔دیا۔اب غور کرنا چاہئیے کہ یہ اخلاقی تعلیم اور یہ طریق وعظ یعنی مثالوں میں بیان کرنا یہ تمام طرز حضرت عیسی علیہ السلام کی ہے۔جب ہم دوسرے قرائن کو اپنی نظر کے سامنے رکھ کر اس طرز تعلیم اور اخلاقی تعلیم کو دیکھتے ہیں تو معا ہمارے دل میں گذرتا ہے کہ یہ سب باتیں حضرت مسیح کی تعلیم کی نقل ہیں جبکہ وہ اس ملک ہندوستان میں تشریف لائے اور جابجا انہوں نے وعظ بھی کئے تو ان دنوں میں بدھ مذہب والوں نے ان سے ملاقات کر کے اور ان کو صاحب برکات پا کر اپنی کتابوں میں یہ باتیں درج کرلیں بلکہ ان کو بُدھ قرار دے۔کیونکہ یہ انسان کی فطرت میں داخل ہے کہ جہاں کہیں عمدہ بات پاتا ہے بہر طرح کوشش کرتا ہے کہ اس عمدہ بات کو لے لے یہاں تک کہ اگر کسی مجلس میں کوئی عمدہ نکتہ کسی کے منہ سے نکلتا ہے تو دوسرا اس کو یاد رکھتا ہے۔تو پھر یہ بالکل قرین قیاس ہے کہ بدھ مذہب والوں نے انجیلوں کا سارا نقشہ اپنی کتابوں میں بھینچ دیا ہے مثلاً یہاں تک کہ جیسے مسیح نے چالیس روزے رکھے ویسے ہی بدھ نے بھی رکھے اور جیسا کہ مسیح شیطان سے آزمایا گیا ایسا ہی بُدھ بھی آزمایا گیا اور جیسا کہ میچ بے پدر تھا ویسا ہی بُدھ بھی۔اور جیسا کہ مسیح نے اخلاقی تعلیم بیان کی ویسا ہی بُدھ نے بھی کی۔اور جیسا کہ مسیح نے کہا کہ میں نور ہوں ویسا ہی بُدھ نے بھی کہا۔اور جیسا کہ مسیح نے اپنا نام استاد رکھا اور حواریوں کا نام شاگرد ایسا ہی بُدھ نے رکھا۔اور جیسا کہ انجیل متی باب ۱۰ آیت ۹٫۸ میں ہے کہ سونا اور روپا اور تانبا اپنے پاس مت رکھو یہی حکم بدھ نے اپنے شاگردوں کو دیا۔اور جیسا کہ انجیل میں مجرد رہنے کی ترغیب دی گئی ہے ایسا ہی بدھ کی تعلیم میں ترغیب ہے۔اور جیسا کہ میسیج کو صلیب پر کھینچنے کے بعد زلزلہ آیا ایسا ہی لکھا ہے کہ بدھ کے مرنے کے بعد زلزلہ آیا۔* نوٹ جیسا کہ عیسائیوں میں عشاء ربانی ہے ایسا ہی بدھ مذہب والوں میں بھی ہے۔منہ