فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 125
مسیح ہندوستان میں 125 فلسطین سے کشمیر تک فراغت پاتے ہی اس کو تمام باتوں کا علم ہو گیا اور جس صبح کو یہ بڑی جنگ ختم ہوئی وہ بدھ مذہب کی پیدائش کا دن تھا۔اُس وقت گوتم کی عمر پینتیس برس کی تھی اور اس وقت اس کو بدھ یعنی نور اور روشنی کا خطاب ملا اور جس درخت کے نیچے وہ اس وقت بیٹھا ہوا تھا وہ درخت نور کے درخت کے نام سے مشہور ہو گیا۔اب انجیل کھول کر دیکھو کہ یہ شیطان کا امتحان جس سے بدھ آزمایا گیا کس قدر حضرت مسیح کے امتحان سے مشابہ ہے یہاں تک کہ امتحان کے وقت میں جو حضرت مسیح کی عمر تھی قریباً وہی بدھ کی عمر تھی اور جیسا کہ بدھ کی کتابوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شیطان در حقیقت انسان کی طرح مجسم ہو کر لوگوں کے دیکھتے ہوئے بدھ کے پاس نہیں آیا بلکہ وہ ایک خاص نظارہ تھا جو بد ھ کی آنکھوں تک ہی محدود تھا اور شیطان کی گفتگو شیطانی الہام تھی یعنی شیطان اپنے نظارہ کے ساتھ بدھ کے دل میں یہ القا بھی کرتا تھا کہ یہ طریق چھوڑ دینا چاہئیے اور میرے حکم کی پیروی کرنی چاہئیے میں تجھے دنیا کی تمام دولتیں دے دوں گا۔اسی طرح عیسائی محقق مانتے ہیں کہ شیطان جو حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس آیا تھا وہ بھی اس طرح نہیں آیا تھا کہ یہودیوں کے سامنے انسان کی طرح ان کی گلیوں کو چوں سے ہو کر اپنی مجسم حالت میں گذرتا ہوا حضرت مسیح کو آملا ہوا اور انسانوں کی طرح ایسی گفتگو کی ہو کہ حاضرین نے بھی سنی ہو بلکہ یہ ملاقات بھی ایک کشفی رنگ میں ملاقات تھی۔جو حضرت مسیح کی آنکھوں تک محدود تھی اور باتیں بھی الہامی رنگ میں تھیں۔یعنی شیطان نے جیسا کہ اس کا قدیم سے طریق ہے اپنے ارادوں کو وسوسوں کے رنگ میں حضرت مسیح کے دل میں ڈالا تھا۔مگر ان شیطانی الہامات کو حضرت مسیح کے دل نے قبول نہ کیا بلکہ بدھ کی طرح ان کو ر ڈ کیا۔اب سوچنے کا مقام ہے کہ اس قدر مشابہت بُدھ میں اور حضرت مسیح میں کیوں پیدا ہوئی۔اس مقام میں آریہ تو کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح نے اس سفر کے وقت جبکہ ہندوستان کی طرف انہوں نے سفر کیا تھابُدھ مذہب کی باتوں کو سن کر اور بدھ کے ایسے واقعات پر اطلاع پا کر اور پھر واپس اپنے وطن میں جا کر اسی کے موافق انجیل بنالی تھی۔اور بدھ کے اخلاق میں سے چرا کر اخلاقی تعلیم لکھی تھی اور جیسا کہ بدھ نے اپنے تئیں نور کہا اور علم کہا اور دوسرے خطاب اپنے نفس کے لئے مقرر کئے وہی تمام خطاب مسیح نے اپنی