فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 121 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 121

121 مسیح ہندوستان میں فلسطین سے کشمیر تک میں آ کر با سانی تبت میں جاسکتے تھے۔اور پنجاب میں داخل ہو کر ان کے لئے کچھ مشکل نہ تھا کہ قبل اس کے جو کشمیر اور تبت کی طرف آویں ہندوستان کے مختلف مقامات کا سیر کریں۔سوجیسا کہ اس ملک کی پرانی تاریخیں بتلاتی ہیں یہ بات بالکل قرین قیاس ہے کہ حضرت مسیح نے نیپال اور بنارس وغیرہ مقامات کا سیر کیا ہوگا اور پھر جموں سے یا راولپنڈی کی راہ سے کشمیر کی طرف گئے ہوں گے۔چونکہ وہ ایک سرد ملک کے آدمی تھے۔اس لئے یہ یقینی امر ہے کہ ان ملکوں میں غالبا وہ صرف جاڑے تک ہی ٹھہرے ہوں گے اور اخیر مارچ یا اپریل کے ابتدا میں کشمیر کی طرف کوچ کیا ہوگا اور چونکہ وہ ملک بلا دشام سے بالکل مشابہ ہے اس لئے یہ بھی یقینی ہے کہ اس ملک میں سکونت مستقل اختیار کر لی ہوگی۔اور ساتھ اس کے یہ بھی خیال ہے کہ کچھ حصہ اپنی عمر کا افغانستان میں بھی رہے ہوں گے اور کچھ بعید نہیں کہ وہاں شادی بھی کی ہو۔افغانوں میں ایک قوم عیسی خیل کہلاتی ہے۔کیا تعجب ہے کہ وہ حضرت عیسی کی ہی اولاد ہوں۔مگر افسوس کہ افغانوں کی قوم کا تاریخی شیرازہ نہایت درہم برہم ہے اس لئے ان کے قومی تذکروں کے ذریعہ سے کوئی اصلیت پیدا کرنا نہایت مشکل امر ہے۔بہر حال اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ افغان بنی اسرائیل میں سے ہیں جیسا کہ کشمیری بھی بنی اسرائیل میں سے ہیں اور جن لوگوں نے اپنی تالیفات میں اس کے برخلاف لکھا ہے انہوں نے سخت دھوکا کھایا ہے اور فکر دقیق سے کام نہیں لیا۔افغان اس بات کو مانتے ہیں کہ وہ قیس کی اولاد میں سے ہیں اور قیس بنی اسرائیل میں سے ہے۔خیر اس جگہ اس بحث کو طول دینے کی ضرورت نہیں۔ہم اپنی ایک کتاب میں اس بحث کو کامل طور پر لکھ چکے ہیں۔اس جگہ صرف حضرت مسیح کی سیاحت کا ذکر ہے جو نصیبین کی راہ سے افغانستان میں ہو کر اور پنجاب میں گذر کر کشمیر اور تبت تک ہوئی۔اس لمبے سفر کی وجہ سے آپ کا نام نبی سیاح بلکہ سیاحوں کا سردار رکھا گیا۔چنانچہ ایک اسلامی فاضل امام عالم علامہ یعنی عارف باللہ ابی بکر محمد بن محمد ابن الولید الفہر کی الطرطوشی المالکی جو اپنی