فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 122 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 122

مسیح ہندوستان میں 122 فلسطین سے کشمیر تکہ عظمت اور فضیلت میں شہرہ آفاق ہیں اپنی کتاب سراج الملوک میں جو مطبع خیر یہ مصر میں ۱۳۰۶ھ میں چھپی ہے یہ عبارت حضرت مسیح کے حق میں لکھتے ہیں جو صفحہ ۶ میں درج ہے۔این عیسی روح الله و كلمته رأس الزاهدین و امام السائحين“ یعنی کہاں ہے عیسی روح اللہ وکلمتہ اللہ جوزاہدوں کا سردار اور سیاحوں کا امام تھا یعنی وہ وفات پا گیا اور ایسے ایسے انسان بھی دنیا میں نہ رہے۔دیکھو اس جگہ اس فاضل نے حضرت عیسی کو نہ صرف سیاح بلکہ سیاحوں کا امام لکھا ہے۔ایسا ہی لسان العرب کے صفحہ ۴۳۱ میں لکھا ہے۔”قیل سُمِّيَ عيسى بمسيح لانه كان سائحًا في الارض لا يستقر۔یعنی عیسی کا نام مسیح اس لئے رکھا گیا کہ وہ زمین میں سیر کرتا رہتا تھا اور کہیں اور کسی جگہ اس کو قرار نہ تھا۔یہی مضمون تاج العروس شرح قاموس میں بھی ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ مسیح وہ ہوتا ہے جو خیر اور برکت کے ساتھ مسح کیا گیا ہو یعنی اس کی فطرت کو خیر و برکت دی گئی ہو۔یہاں تک کہ اس کا چھونا بھی خیر و برکت کو پیدا کرتا ہو اور یہ نام حضرت عیسی کو دیا گیا اور جس کو چاہتا ہے اللہ تعالیٰ یہ نام دیتا ہے۔اور اس کے مقابل پر ایک وہ بھی مسیح ہے جو شر اور لعنت کے ساتھ مسح کیا گیا یعنی اس کی فطرت شر اور لعنت پر پیدا کی گئی یہاں تک کہ اس کا چھونا بھی شر اور لعنت اور ضلالت پیدا کرتا ہے اور یہ نام مسیح دجال کو دیا گیا اور نیز ہر ایک کو جو اس کا ہم طبع ہواور یہ دونوں نام یعنی مسیح سیاحت کرنے والا اور مسیح برکت دیا گیا یہ با ہم ضد نہیں ہیں اور پہلے معنی دوسرے کو باطل نہیں کر سکتے کیونکہ خدائے تعالیٰ کی یہ بھی عادت ہے کہ ایک نام کسی کو عطا کرتا ہے اور کئی معنی اس سے مراد ہوتے ہیں اور سب اس پر صادق آتے ہیں۔اب خلاصہ مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا سیاح ہونا اس قدر اسلامی تواریخ سے ثابت ہے کہ اگر ان تمام کتابوں میں سے نقل کیا جائے تو میں خیال کرتا ہوں کہ وہ مضمون اپنے طول کی وجہ سے ایک ضخیم کتاب ہوسکتی ہے۔اس لئے اسی پر کفایت کی جاتی ہے۔مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 66 تا 72)