فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 118 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 118

118 فلسطین سے کشمیر تک مسیح ہندوستان میں دفعہ سیاحت کے زمانہ میں ان کے رفیقوں نے ان کے لئے ایک گھوڑا خریدا اور ایک دن سواری کی مگر چونکہ گھوڑے کے آب و دانہ اور چارے کا بندوبست نہ ہو سکا اس لئے اس کو واپس کر دیا۔وہ اپنے ملک سے سفر کر کے نصیبین میں پہنچے جو ان کے وطن سے کئی سوکوس کے فاصلہ پر تھا۔اور آپ کے ساتھ چند حواری بھی تھے۔آپ نے حواریوں کو تبلیغ کے لئے شہر میں بھیجا۔مگر اس شہر میں حضرت عیسی علیہ السلام اور ان کی والدہ کی نسبت غلط اور خلاف واقعہ خبریں پہنچی ہوئی تھیں اس لئے اس شہر کے حاکم نے حواریوں کو گرفتار کر لیا۔پھر حضرت عیسی علیہ السلام کو بلایا۔آپ نے اعجازی برکت سے بعض بیماروں کو اچھا کیا اور اور بھی کئی معجزات دکھلائے۔اس لئے نصیبین کے ملک کا بادشاہ مع تمام لشکر اور باشندوں کے آپ پر ایمان لے آیا اور نزول مائدہ کا قصہ جو قرآن شریف میں ہے وہ واقعہ بھی ایام سیاحت کا ہے۔یہ خلاصہ بیان تاریخ روضۃ الصفا ہے۔اور اس جگہ مصنف کتاب نے بہت سے بیہودہ اور لغو اور دور از عقل معجزات بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف منسوب کئے ہیں۔جن کو ہم افسوس کے ساتھ چھوڑتے ہیں اور اپنی اس کتاب کو ان جھوٹ اور فضول اور مبالغہ آمیز باتوں سے پاک رکھ کر صرف اصل مطلب اس سے لیتے ہیں جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام سیر کرتے کرتے نصیبین تک پہنچ گئے تھے اور نصیبین موصل اور شام کے درمیان ایک شہر ہے جس کو انگریزی نقشوں میں نسی بس کے نام سے لکھا ہے۔جب ہم ملک شام سے فارس کی طرف سفر کریں تو ہماری راہ میں نصیبین آئے گا اور وہ بیت المقدس سے قریباً ساڑھے چار سوکوس ہے اور پھر نصیبین سے قریباً ۴۸ میل موصل ہے جو بیت المقدس سے پانسو میل کے فاصلہ پر ہے اور موصل سے فارس کی حد صرف سو میل رہ جاتی ہے اس حساب سے نصیبین فارس کی حد سے ڈیڑھ سو میل پر ہے اور فارس کی مشرقی حد افغانستان کے شہر ہرات تک ختم ہوتی ہے یعنی فارس کی طرف ہرات افغانستان کی مغربی حد پر واقع ہے اور فارس کی مغربی حد سے قریباً نو سو میل کے فاصلہ پر ہے اور ہرات سے درہ خیبر تک قریبا پانسومیل کا فاصلہ ہے۔دیکھو نقشہ طذا۔