فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 114
مسیح ہندوستان میں 114 فلسطین سے کشمیر تک چمکتا ہوا ثبوت اس لائق ہے کہ اس پر توجہ نہ کی جائے؟ کیا مناسب ہے کہ ہم اس آفتاب صداقت سے روشنی حاصل نہ کریں؟ یہ وہم بالکل لغو اور بیہودہ ہے کہ ممکن ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو نبوت کے زمانہ سے پہلے چوٹیں لگی ہوں یا نبوت کے زمانہ کی ہی چوٹیں ہوں مگر وہ صلیب کی نہیں بلکہ کسی اور وجہ سے ہاتھ اور پیر زخمی ہو گئے ہوں۔مثلاً وہ کسی کو ٹھے پر سے گر گئے ہوں اور اس صدمہ کے لئے یہ مرہم طیار کی گئی ہو۔کیونکہ نبوت کے زمانہ سے پہلے حواری نہ تھے اور اس مرہم میں حواریوں کا ذکر ہے۔شلیخا کا لفظ جو یونانی ہے جو باراں کو کہتے ہیں۔ان کتابوں میں اب تک موجود ہے۔اور نیز نبوت کے زمانہ سے پہلے حضرت مسیح کی کوئی عظمت تسلیم نہیں کی گئی تھی تا اس کی یادگار محفوظ رکھی جاتی اور نبوت کا زمانہ صرف ساڑھے تین برس تھا۔اور اس مدت میں کوئی واقعہ ضربہ یا سقطہ کا بجز واقعہ صلیب کے حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت تاریخوں سے ثابت نہیں۔اور اگر کسی کو یہ خیال ہو کہ ممکن ہے کہ ایسی چوٹیں کسی اور سبب سے حضرت عیسی علیہ السلام کو گی ہوں تو یہ ثبوت اس کے ذمہ ہے کیونکہ ہم جس واقعہ کو پیش کرتے ہیں وہ ایک ایسا ثابت شدہ اور مانا ہوا واقعہ ہے کہ نہ یہودیوں کو اس سے انکار ہے اور نہ عیسائیوں کو یعنی صلیب کا واقعہ۔لیکن یہ خیال کہ کسی اور سبب سے کوئی چوٹ حضرت مسیح کو لگی ہوگی کسی قوم کی تاریخ سے ثابت نہیں۔اس لئے ایسا خیال کرنا عمد اسچائی کی راہ کو چھوڑنا ہے۔یہ ثبوت ایسا نہیں ہے کہ اس قسم کے بیہودہ عذرات سے رڈ ہو سکے۔اب تک بعض کتابیں بھی موجود ہیں جو مصنفوں کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہیں۔چنانچہ ایک پرانا قلمی نسخہ قانون بوعلی سینا کا اُسی زمانہ کا لکھا ہوا میرے پاس بھی موجود ہے۔تو پھر یہ صریح ظلم اور سچائی کا خون کرنا ہے کہ ایسے روشن ثبوت کو یونہی پھینک دیا جائے۔بار بار اس بات میں غور کرو اور خوب غور کرو کہ کیونکر یہ کتا بیں اب تک یہودیوں اور مجوسیوں اور عیسائیوں اور عربوں اور فارسیوں اور یونانیوں اور رومیوں اور اہل جرمن اور فرانسیسیوں اور دوسرے یورپ کے ملکوں اور ایشیا کے پرانے کتب خانوں میں موجود ہیں اور کیا یہ لائق ہے کہ ہم ایسے ثبوت سے جس کی روشنی سے انکار کی آنکھیں خیرہ ہوتی ہیں یونہی منہ پھیر لیں؟ اگر یہ کتا بیں صرف اہل اسلام کی تالیف