فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 113 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 113

113 فلسطین سے کشمیر تک مسیح ہندوستان میں زبان میں خوب مہارت تھی جب اس قرابادین کا جس میں مرہم عیسی تھی ترجمہ کیا تو عقلمندی سے شلیخا کے لفظ کو جو ایک یونانی لفظ ہے جو باراں کو کہتے ہیں بعینہ عربی میں لکھ دیا تا اس بات کا اشارہ کتابوں میں قائم رہے کہ یہ کتاب یونانی قرابا دین سے ترجمہ کی گئی۔اسی وجہ سے اکثر ہر ایک کتاب میں شلیخا کا لفظ بھی لکھا ہوا پاؤ گے۔اور یہ بات بھی یادر کھنے کے لائق ہے کہ اگر چہ پرانے سکتے بڑی قابل قدر چیزیں ہیں اور ان کے ذریعہ سے بڑے بڑے تاریخی اسرار کھلتے ہیں لیکن ایسی پرانی کتابیں جو مسلسل طور پر ہر صدی میں کروڑ ہا انسانوں میں مشہور ہوتی چلی آئیں اور بڑے بڑے مدارس میں پڑھائی گئیں اور اب تک درسی کتابوں میں داخل ہیں ان کا مرتبہ اور عزت ان سکوں اور کتبوں سے ہزارہا درجہ بڑھ کر ہے۔کیونکہ کتبوں اور سکوں میں جعل سازی کی بھی گنجائشیں ہیں لیکن وہ علمی کتا ہیں جو اپنے ابتدائی زمانہ میں ہی کروڑ ہا انسانوں میں مشہور ہوتی چلی آئی ہیں اور ہر ایک قوم ان کی محافظ اور پاسبان ہوتی رہی ہے اور اب بھی ہے۔ان کی تحریر میں بلا شبہ ایسی اعلیٰ درجہ کی شہادتیں ہیں جو سکوں اور کتبوں کو ان سے کچھ بھی نسبت نہیں۔اگر ممکن ہو تو کسی سکہ یا کتبہ کا نام تو لو جس نے ایسی شہرت پائی ہو جیسا کہ بوعلی سینا کے قانون نے۔غرض مرہم عیسی حق کے طالبوں کے لئے ایک عظیم الشان شہادت ہے۔اگر اس شہادت کو قبول نہ کیا جائے تو پھر دنیا کے تمام تاریخی ثبوت اعتبار سے گر جاویں گے کیونکہ اگر چہ اب تک ایسی کتابیں جن میں اس مرہم کا ذکر ہے قریباً ایک ہزار ہیں یا کچھ زیادہ۔لیکن کروڑہا انسانوں میں یہ کتابیں اور ان کے مؤلف شہرت یافتہ ہیں۔اب ایسا شخص علم تاریخ کا دشمن ہوگا جو اس بدیہی اور روشن اور پُر زور ثبوت کو قبول نہ کرے۔اور کیا یہ حکم پیش کیا جا سکتا ہے کہ اس قدر عظیم الشان ثبوت کو ہم نظر انداز کر دیں اور کیا ہم ایسے بھاری ثبوت پر بدگمانی کر سکتے ہیں جو یورپ اور ایشیا پر دائرہ کی طرح محیط ہو گیا ہے۔اور جو یہودیوں اور عیسائیوں اور مجوسیوں اور مسلمانوں کے نامی فلاسفروں کی شہادتوں سے پیدا ہوا ہے۔اب اے محققوں کی روحو! اس اعلیٰ ثبوت کی طرف دوڑو۔اور اے منصف مزاجو! اس معاملہ میں ذرہ غور کرو۔کیا ایسا