فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 112
مسیح ہندوستان میں 112 فلسطین سے کشمیر تک طبیبوں پر پوشیدہ نہیں ہے کہ اکثر ان میں ایسی کتابیں ہیں جو پہلے زمانہ میں اسلام کے بڑے بڑے مدرسوں میں پڑھائی جاتی تھیں اور یورپ کے طالب العلم بھی ان کو پڑھتے تھے۔اور یہ کہنا بالکل سچ اور مبالغہ کی ایک ذرہ آمیزش سے بھی پاک ہے کہ ہر ایک صدی میں قریباً کروڑہا انسان ان کتابوں کے نام سے واقف ہوتے چلے آئے ہیں اور لاکھوں انسانوں نے ان کو اول سے آخر تک پڑھا ہے اور ہم بڑے زور سے کہہ سکتے ہیں کہ یورپ اور ایشیا کے عالم لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کہ ان بعض عظیم الشان کتابوں کے نام سے ناواقف ہو جو اس فہرست میں درج ہیں۔جس زمانہ میں ہسپانیہ اور لیمنو اور ستلیر نم " ☆ دار العلم تھے اس زمانہ میں بوعلی سینا کی کتاب قانون جو طب کی ایک بڑی کتاب ہے جس میں مرہم عیسی کا نسخہ ہے اور دوسری کتابیں شفاء اور اشارات اور بشارات جو طبعی اور ہیئت اور فلسفہ وغیرہ میں ہیں بڑے شوق سے اہلِ یورپ سیکھتے تھے۔اور ایسا ہی ابونصر فارابی اور ابوریحان اور اسرائیل اور ثابت بن قرہ اور حنین بن اسحاق اور اسحاق وغیرہ فاضلوں کی کتابیں اور ان کی یونانی سے ترجمہ شدہ کتابیں پڑھائی جاتی تھیں یقیناً ان کتابوں کے ترجمے یورپ کے کسی حصہ میں اب تک موجود ہوں گے۔اور چونکہ اسلام کے بادشاہ علم طب وغیرہ کو ترقی دینا بدل چاہتے تھے اسی وجہ سے انہوں نے یونان کی عمدہ عمدہ کتابوں کا ترجمہ کرایا اور عرصہ دراز تک ایسے بادشاہوں میں خلافت رہی کہ وہ ملک کی توسیع کی نسبت علم کی توسیع زیادہ چاہتے تھے انہی وجوہ اور اسباب سے انہوں نے نہ صرف یونانی کتابوں کے ترجمے عربی میں کرائے بلکہ ملک ہند کے فاضل پنڈتوں کو بھی بڑی بڑی تنخواہوں پر طلب کر کے طب وغیرہ علوم کے بھی ترجمے کرائے پس ان کے احسانوں میں سے حق کے طالبوں پر یہ ایک بڑا احسان ہے جو انہوں نے ان رومی و یونانی وغیرہ طبی کتابوں کے ترجمے کرائے جن میں مرہم عیسی موجود تھی اور جس پر کتبہ کی طرح یہ لکھا ہوا تھا کہ یہ مرہم حضرت عیسی علیہ السلام کی چوٹوں کے لئے طیار کی گئی تھی۔فاضل حکماء عہد اسلام نے جیسا کہ ثابت بن قرہ اور حنین بن اسحاق ہیں جن کو علاوہ علم طب وطبعی و فلسفہ وغیرہ کی یونانی ہسپانیہ یعنی اندلس کیمنو یعنی قسطمونیہ ستلیر نم یعنی مشترین۔منہ ☆