فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 110
110 فلسطین سے کشمیر تک مسیح ہندوستان میں کا ترجمہ ہوا۔اور یہ خدا کی عجیب قدرت ہے کہ ہر ایک مذہب کے فاضل طبیب نے کیا عیسائی اور کیا یہودی اور کیا مجوسی اور کیا مسلمان سب نے اس نسخہ کو اپنی کتابوں میں لکھا ہے اور سب نے اس نسخہ کے بارے میں یہی بیان کیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے ان کے حواریوں نے طیار کیا تھا اور جن کتابوں میں ادویہ مفردہ کے خواص لکھے ہیں ان کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نسخہ ان چوٹوں کے لئے نہایت مفید ہے جو کسی ضربہ یا سقطہ سے لگ جاتی ہیں اور چوٹوں سے جو خون رواں ہوتا ہے وہ فی الفور اس سے خشک ہو جاتا ہے اور چونکہ اس میں مر بھی داخل ہے اس لئے زخم کیڑا پڑنے سے بھی محفوظ رہتا ہے۔اور یہ دوا طاعون کے لئے بھی مفید ہے۔اور ہر قسم کے پھوڑے پھنسی کو اس سے فائدہ ہوتا ہے۔یہ معلوم نہیں کہ یہ دوا صلیب کے زخموں کے بعد خود ہی حضرت عیسی علیہ السلام نے الہام کے ذریعہ سے تجویز فرمائی تھی یا کسی طبیب کے مشورہ سے طیار کی گئی تھی۔اس میں بعض دوائیں اکسیر کی طرح ہیں۔خاص کر مر جس کا ذکر توریت میں بھی آیا ہے۔بہر حال اس دوا کے استعمال سے حضرت مسیح علیہ السلام کے زخم چند روز میں ہی اچھے ہو گئے۔اور اس قدر طاقت آگئی کہ آپ تین روز میں یروشلم سے جلیل کی طرف ستر کوس تک پیادہ پاگئے۔پس اس دوا کی تعریف میں اس قدر کافی ہے کہ مسیح تو اوروں کو اچھا کرتا تھا مگر اس دوا نے مسیح کو اچھا کیا۔اور جن طب کی کتابوں میں یہ نسخہ لکھا گیا وہ ہزار کتاب سے بھی زیادہ ہیں۔جن کی فہرست لکھنے سے بہت طول ہوگا اور چونکہ یہ نسخہ یونانی طبیبوں میں بہت مشہور ہے اس لئے میں کچھ ضرورت نہیں دیکھتا کہ تمام کتابوں کے نام اس جگہ لکھوں محض چند کتابیں جو اس جگہ موجود ہیں ذیل میں لکھ دیتا ہوں۔فہرست ان طبقی کتابوں کی جن میں مرہم عیسی کا ذکر ہے اور یہ بھی ذکر ہے کہ وہ مرہم حضرت عیسی کے لئے یعنی ان کے بدن کے زخموں کے لئے بنائی گئی تھی قانون شیخ الرئیس بوعلی سینا جلد ثالث صفحہ نمبر ۱۳۳۔شرح قانون علامہ قطب الدین شیرازی جلد ثالث۔کامل الصناعة تصنیف علی بن العباس المحجوسی جلد دوم صفحه ۶۰۲- کتاب مجموعه بقائی مصنفہ محمود محمد اسماعیل مخاطب از خاقان بخطاب پدر محمد بقا خان جلد ۲ صفحہ ۴۹۷۔