فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 107 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 107

107 فلسطین سے کشمیر تک مسیح ہندوستان میں قرآن شریف میں ایک یہ بھی آیت ہے وَمُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا * یعنی اے عیسی میں ان الزاموں سے تجھے بری کروں گا اور تیرا پاکدامن ہونا ثابت کر دوں گا اور ان تہمتوں کو دور کر دوں گا جو تیرے پر یہود اور نصاری نے لگائیں۔یہ ایک بڑی پیشگوئی تھی اور اس کا ماحصل یہی ہے کہ یہود نے یہ تہمت لگائی تھی کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح مصلوب ہو کر ملعون ہوکر خدا کی محبت ان کے دل میں سے جاتی رہی اور جیسا کہ لعنت کے مفہوم کے لئے شرط ہے ان کا دل خدا سے برگشتہ اور خدا سے بیزار ہو گیا اور تاریکی کے بے انتہا طوفان میں پڑ گیا اور بدیوں سے محبت کرنے لگا اور کل نیکیوں کا مخالف ہو گیا اور خدا سے تعلق توڑ کر شیطان کی بادشاہت کے ماتحت ہو گیا اور اس میں اور خدا میں حقیقی دشمنی پیدا ہوگئی۔اور یہی تہمت ملعون ہونے کی نصاری نے بھی لگائی تھی مگر نصاری نے اپنی نادانی سے دوضروں کو ایک ہی جگہ جمع کر دیا ہے۔انہوں نے ایک طرف تو حضرت مسیح کو خدا کا فرزند قرار دیا اور دوسری طرف ملعون بھی قرار دیا ہے اور خود مانتے ہیں کہ ملعون تاریکی اور شیطان کا فرزند ہوتا ہے یا خود شیطان ہوتا ہے سو حضرت مسیح پر یہ سخت نا پاک تہمتیں لگائی گئی تھیں۔اور مُطَهَرُک کی پیشگوئی میں یہ اشارہ ہے کہ ایک زمانہ وہ آتا ہے کہ خدائے تعالیٰ ان الزاموں سے حضرت مسیح کو پاک کرے گا۔اور یہی وہ زمانہ ہے۔اگر چہ حضرت عیسی علیہ السلام کی تطہیر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی سے بھی عظمندوں کی نظروں میں بخوبی ہوگئی کیونکہ آنجناب نے اور قرآن شریف نے گواہی دی کہ وہ الزام سب جھوٹے ہیں جو حضرت عیسی علیہ السلام پر لگائے گئے تھے۔لیکن یہ گواہی عوام کی نظر میں نظری اور باریک تھی اس لئے اللہ تعالیٰ کے انصاف نے یہی چاہا کہ جیسا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو مصلوب کرنا ایک مشہور امر تھا اور امور بدیہیہ مشہودہ محسوسہ میں سے تھا اسی طرح تظہیر اور بریت بھی امور مشہودہ محسوسہ میں سے ہونی چاہئیے۔سواب اسی کے موافق ظہور میں آیا یعنی تطہیر بھی صرف نظری نہیں بلکہ محسوس طور پر ہوگئی اور لاکھوں انسانوں نے اس جسم کی آنکھ سے دیکھ لیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر سری نگر کشمیر میں موجود ہے۔اور جیسا کہ کلکتہ یعنی سری کے مکان پر حضرت مسیح کو صلیب پر کھینچا گیا تھا ایسا آل عمران : 56