فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 106 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 106

106 فلسطین سے کشمیر تک مسیح ہندوستان میں الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ دنیا میں بھی مسیح کو اس کی زندگی میں وجاہت یعنی عزت اور مرتبہ اور عام لوگوں کی نظر میں عظمت اور بزرگی ملے گی اور آخرت میں بھی۔اب ظاہر ہے کہ حضرت مسیح نے ہیرو دوس اور پلاطوس کے علاقہ میں کوئی عزت نہیں پائی بلکہ غایت درجہ کی تحقیر کی گئی۔اور یہ خیال کہ دنیا میں پھر آ کر عزت اور بزرگی پائیں گے۔یہ ایک بے اصل وہم ہے جو نہ صرف خدائے تعالیٰ کی کتابوں کے منشاء کے مخالف بلکہ اس کے قدیم قانونِ قدرت سے بھی مغائر اور مبائن اور پھر ایک بے ثبوت امر ہے مگر واقعی اور سچی بات یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اس بد بخت قوم کے ہاتھ سے نجات پا کر جب ملک پنجاب کو اپنی تشریف آوری سے فخر بخشا۔تو اس ملک میں خدائے تعالیٰ نے ان کو بہت عزت دی اور بنی اسرائیل کی وہ دس تو میں جو گم تھیں اس جگہ آکر ان کو مل گئیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل اس ملک میں آ کر اکثر ان میں سے بدھ مذہب میں داخل ہو گئے تھے اور بعض ذلیل قسم کی بت پرستی میں پھنس گئے تھے۔سو اکثر ان کے حضرت مسیح کے اس ملک میں آنے سے راہ راست پر آگئے۔اور چونکہ حضرت مسیح کی دعوت میں آنے والے نبی کے قبول کرنے کے لئے وصیت تھی اس لئے وہ دس فرقے جو اس ملک میں آکر افغان اور کشمیری کہلائے۔آخر کار سب کے سب مسلمان ہو گئے۔غرض اس ملک میں حضرت مسیح کو بڑی وجاہت پیدا ہوئی۔اور حال میں ایک سکہ ملا ہے جو اسی ملک پنجاب میں سے برآمد ہوا ہے اس پر حضرت عیسی علیہ السلام کا نام پالی تحریر میں درج ہے اور اُسی زمانہ کا سکہ ہے جو حضرت مسیح کا زمانہ تھا۔اس سے یقین ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اس ملک میں آ کر شاہانہ عزت پائی۔اور غالبا یہ سکہ ایسے بادشاہ کی طرف سے جاری ہوا ہے جو حضرت مسیح پر ایمان لے آیا تھا۔ایک اور سکہ برآمد ہوا ہے اس پر ایک اسرائیلی مرد کی تصویر ہے۔قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی حضرت مسیح کی تصویر ہے۔قرآن شریف میں ایک یہ بھی آیت ہے یہ مسیح کو خدا نے ایسی برکت دی ہے کہ جہاں جائے گا وہ مبارک ہوگا۔یسو ان سکوں سے ثابت ہے کہ اُس نے خدا سے بڑی برکت پائی اور وہ فوت نہ ہوا جب تک اس کو ایک شاہانہ عزت نہ دی گئی۔اسی طرح ا۔آل عمران: 46 وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَمَا كُنتُ (مریم: 32)