فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 98
مسیح ہندوستان میں 98 فلسطین سے کشمیر تک کئی ہزار بیل زندہ کئے تھے تو یہ بات بہت معقول ہوتی اور کسی کے اعتراض کے وقت جبکہ مذکورہ بالا اعتراض کیا جاتا یعنی یہ کہا جاتا کہ ان مردوں کی گواہی کا نتیجہ کیا ہوا تو ہم فی الفور کہہ سکتے کہ وہ تو بیل تھے ان کی زبان کہاں تھی جو بھلی یا بُری گواہی دیتے۔بھلا وہ تو لاکھوں مردے تھے جو حضرت مسیح نے زندہ کئے آج مثلاً چند ہندوؤں کو اگر بلا کر پوچھو کہ اگر تمہارے فوت شدہ باپ دادے دس ہیں زندہ ہوکر دنیا میں واپس آجائیں اور گواہی دیں کہ فلاں مذہب سچا ہے تو کیا پھر بھی تم کو اس مذہب کی سچائی میں شک باقی رہ جائے گا۔تو ہر گز نفی کا جواب نہیں دیں گے۔پس یقیناً سمجھو کہ دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں کہ اس قدر انکشاف کے بعد پھر بھی اپنے کفر اور انکار پراڑ ا ر ہے۔افسوس ہے کہ ایسی کہانیوں کی بندش میں ہمارے ملک کے سکھ خالصہ عیسائیوں سے اچھے رہے اور انہوں نے ایسی کہانیوں کے بنانے میں خوب ہوشیاری کی۔کیونکہ وہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے گورو با وانا نک نے ایک دفعہ ایک ہاتھی مردہ زندہ کیا تھا۔اب یہ اس قسم کا معجزہ ہے کہ نتائج مذکورہ کا اعتراض اس پر وارد نہیں ہوتا۔کیونکہ سکھ کہہ سکتے ہیں کہ کیا ہاتھی کی کوئی بولنے والی زبان ہے کہ تا باوا نا نک کی تصدیق یا تکذیب کرتا۔غرض عوام تو اپنی چھوٹی سی عقل کی وجہ سے ایسے معجزات پر بہت خوش ہوتے ہیں مگر عقلمند غیر قوموں کے اعتراضوں کا نشانہ بن کر کوفتہ خاطر ہوتے ہیں اور جس مجلس میں ایسی بیہودہ کہانیاں کی جائیں وہ بہت شرمندہ ہوتے ہیں۔اب چونکہ ہم کو حضرت مسیح علیہ السلام سے ایسا ہی محبت اور اخلاص کا تعلق ہے جیسا کہ عیسائیوں کو تعلق ہے بلکہ ہم کو بہت بڑھ کر تعلق ہے کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ وہ کس کی تعریف کرتے ہیں مگر ہم جانتے ہیں کہ ہم کس کی تعریف کرتے ہیں کیونکہ ہم نے ان کو دیکھا ہے لہذا اب ہم اس عقیدہ کی اصل حقیقت کو کھولتے ہیں کہ جو انجیلوں میں لکھا ہے کہ صلیب کے واقعہ کے وقت تمام راستباز فوت شدہ زندہ ہو کر شہر میں آگئے تھے۔پس واضح ہو کہ یہ ایک کشفی امر تھا جو صلیب کے واقعہ کے بعد بعض پاک دل لوگوں نے خواب کی طرح دیکھا تھا کہ گویا مقدس مردے زندہ ہو کر شہر میں آگئے ہیں۔اور لوگوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں اور جیسا کہ خوابوں کی تعبیر خدا کی پاک کتابوں میں کی گئی ہے۔مثلاً