فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 85
مسیح ہندوستان میں 85 فلسطین سے کشمیر تک کے دشمنوں کو نامراد ر کھے۔غرض موسیٰ کی چودھویں صدی اور ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چودھویں صدی اپنے اپنے مسیحوں کے لئے سخت بھی ہیں اور انجام کار مبارک بھی۔اور منجملہ ان شہادتوں کے جو حضرت مسیح علیہ السلام کے صلیب سے محفوظ رہنے کے بارے میں ہمیں انجیل سے ملتی ہیں وہ شہادت ہے جو انجیل متی باب ۲۶ میں یعنی آیت ۳۶ سے آیت ۴۶ تک مرقوم ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام گرفتار کئے جانے کا الہام پا کر تمام رات جناب الہی میں رو رو کر اور سجدے کرتے ہوئے دعا کرتے رہے۔اور ضرور تھا کہ ایسی تضرع کی دعا جس کے لئے مسیح کو بہت لمبا وقت دیا گیا تھا قبول کی جاتی کیونکہ مقبول کا سوال جو بے قراری کے وقت کا سوال ہو ہرگز رد نہیں ہوتا۔پھر کیوں مسیح کی ساری رات کی دعا اور دردمند دل کی دعا اور مظلومانہ حالت کی دعارڈ ہوگئی۔حالانکہ مسیح دعوی کرتا ہے کہ باپ جو آسمان پر ہے میری سنتا ہے۔پس کیونکر باور کیا جائے کہ خدا اس کی سننا تھا جبکہ ایسی بے قراری کی دعاسنی نہ گئی۔اور انجیل سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو دلی یقین تھا کہ اس کی وہ دعا ضرور قبول ہوگئی اور اس دعا پر اس کو بہت بھروسہ تھا۔اسی وجہ سے جب وہ پکڑا گیا اور صلیب پر کھینچا گیا اور ظاہری علامات کو اس نے اپنی امید کے موافق نہ پایا تو بے اختیار اس کے منہ سے نکلا کہ ایلی ایلی لما سبقتانی “اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے کیوں مجھے چھوڑ دیا۔یعنی مجھے یہ امید ہر گز نہیں تھی کہ میرا انجام یہ ہو گا اور میں صلیب پر مروں گا۔اور میں یقین رکھتا تھا کہ تو میری دعا سنے گا۔پس ان دونوں مقامات انجیل سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح کو خود دلی یقین تھا کہ میری دعا ضرور قبول ہوگی اور میرا تمام رات کا رو رو کر دعا کرنا ضائع نہیں جائے گا اور خود اس نے خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنے شاگردوں کو یہ تعلیم دی تھی کہ اگر دعا کرو گے تو قبول کی جائے گی۔بلکہ ایک مثال کے طور پر ایک قاضی کی کہانی بھی بیان کی تھی کہ جو نہ خلقت سے اور نہ خدا سے ڈرتا تھا۔اور اس کہانی سے بھی مدعا یہ تھا کہ تا حواریوں کو یقین آ جائے کہ بے شک خدائے تعالیٰ دعا سنتا ہے۔اور اگر چہ مسیح کو اپنے پر ایک بڑی مصیبت