فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 86 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 86

86 فلسطین سے کشمیر تک مسیح ہندوستان میں کے آنے کا خدائے تعالیٰ کی طرف سے علم تھا۔مگر مسیح نے عارفوں کی طرح اس بنا پر دعا کی کہ خدائے تعالیٰ کے آگے کوئی بات انہونی نہیں اور ہر ایک محو واثبات اس کے اختیار میں ہے۔لہذا یہ واقعہ کہ نعوذ باللہ مسیح کی خود دعا قبول نہ ہوئی یہ ایک ایسا امر ہے جو شاگردوں پر نہایت بداثر پیدا کرنے والا تھا۔سو کیونکر ممکن تھا کہ ایسا نمونہ جو ایمان کو ضائع کرنے والا تھا حواریوں کو دیا جاتا جبکہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ مسیح جیسے بزرگ نبی کی تمام رات کی پُر سوز دعا قبول نہ ہو سکی تو اس بد نمونہ سے ان کا ایمان ایک سخت امتحان میں پڑتا تھا۔لہذا خدائے تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا یہی تھا کہ اس دعا کو قبول کرتا یقیناً سمجھو کہ وہ دعا جو کلسمینی نام مقام میں کی گئی تھی ضرور قبول ہوگئی تھی۔ایک اور بات اس جگہ یا درکھنے کے لائق ہے کہ جیسا کہ مسیح کے قتل کے لئے مشورہ ہوا تھا اور اس غرض کے لئے قوم کے بزرگ اور معزز مولوی قیافا نامی سردار کا ہن کے گھر میں اکٹھے ہوئے تھے کہ کسی طرح مسیح کو قتل کر دیں یہی مشورہ حضرت موسیٰ کے قتل کرنے کے لئے ہوا تھا۔اور یہی مشورہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کرنے کے لئے مکہ میں دارالندوہ کے مقام میں ہوا تھا۔مگر قادر خدا نے ان دونوں بزرگ نبیوں کو اس مشورہ کے بداثر سے بچالیا۔اور مسیح کے لئے جو مشورہ ہوا ان دونوں مشوروں کے درمیان میں ہے۔پھر کیا وجہ کہ وہ بچایا نہ گیا حالانکہ اس نے ان دونوں بزرگ نبیوں سے بہت زیادہ دعا کی۔اور پھر جبکہ خدا اپنے پیارے بندوں کی ضرور سنتا ہے اور شریروں کے مشورہ کو باطل کر کے دکھاتا ہے تو پھر کیا وجہ کہ مسیح کی دعا نہیں سنی گئی۔ہر ایک صادق کا تجربہ ہے کہ بیقراری اور مظلومانہ حالت کی دعا قبول ہوتی ہے۔بلکہ صادق کے لئے مصیبت کا وقت نشان ظاہر کرنے کا وقت ہوتا ہے چنانچہ میں خود اس میں صاحب تجر بہ ہوں۔مجھے یاد ہے کہ دو برس کا عرصہ ہوا ہے کہ مجھ پر ایک جھوٹا مقدمہ اقدام قتل کا ایک صاحب ڈاکٹر مارٹن کلارک عیسائی مقیم امرت سر پنجاب نے عدالت ضلع گورداسپورہ میں دائر کیا اور یہ استغاثہ پیش کیا کہ گویا میں نے ایک شخص عبد الحمید نامی کو بھیج کر ڈا کٹر مذکور کوقتل کرنا چاہا تھا اور ایسا اتفاق ہوا کہ اس مقدمہ میں تینوں قوم کے چند منصوبہ باز آدمی یعنی عیسائی اور ہندو اور مسلمان