پردہ — Page 96
پرده 66 کوئی شخص مجھے یہ تو بتائے کہ میں نبض دکھانا کہاں منع کیا ہے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 171 پرانا ایڈیشن صفحہ 239 جدید ایڈیشن) ایک تو یہ فرمایا کہ بعض عورتوں کی پیدائش کے وقت اگر مرد ڈاکٹروں کو بھی دکھانا پڑے تو کوئی حرج نہیں ہے۔وہاں جو بعض مرد غیرت کھا جاتے ہیں کہ مردوں کو نہیں دکھانا وہ بھی منع ہے۔ضرورت کے وقت مرد ڈاکٹروں کے سامنے پیش ہونا کوئی ایسی بات نہیں۔“ ( خطاب از مستورات جلسہ سالانہ یو کے 31 جولائی 2004 ء۔مطبوعہ افضل انٹرنیشنل 24 اپریل 2015ء) دراصل اسلام کسی بھی معاملہ میں افراط اور تفریط دونوں کو مسترد کرتا ہے۔چنانچہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ ایک موقع پر فرماتے ہیں کہ : یہ بھی دوطرح کے گروپ بن گئے ہیں ایک تو یہ کہتا ہے کہ اس سختی سے کرو کہ عورت کو گھر سے باہر نہ نکلنے دو اور دوسرا یہ ہے کہ اتنی چھوٹ دے دو کہ سب کچھ ہی غلط ملط ہو جائے۔“ (خطاب از مستورات جلسہ سالانہ کینیڈا 3 جولائی 2004ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 23 ستمبر 2005ء) پھر ایک دوسرے موقع پر اسی حوالہ سے حضور انور نے ارشاد فرمایا: بہر حال اللہ تعالیٰ کے جو احکامات ہیں اُن میں نہ ہی افراط کا حکم ہے نہ ہی 66 تفریط کا حکم ہے۔نہ اس طرف جھکو نہ اُس طرف جھکو۔اور یہی اصل چیز ہے۔“ خطاب از مستورات جلسہ سالانہ یو کے 30 جولائی 2010ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 11 / مارچ 2011ء) اسی حوالہ سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ام المومنین حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم رضی اللہ عنہا کا ایک واقعہ بیان کرنے کے بعد پردے کی اصل روح پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام، حضرت ام المومنین کو کس حد تک 96