پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 92 of 222

پردہ — Page 92

پرده متعلق تجویز کرے کہ وہ منہ نہ ڈھانچے۔اپنے چہرے کو کور (cover) نہ کرے۔اگر ڈھانپے گی تو اس کی صحت خراب ہو جائے گی اور ادھر ادھر چلنے پھرنے کے لئے کہے۔( یعنی اگر ڈاکٹر عورت کو کہے کہ منہ نہ ڈھانپے اور پھر باہر جاکے پھرے نہیں تو تمہاری صحت خراب ہو جائے گی ) تو ایسی صورت میں اگر وہ عورت منہ ننگا کر کے چلتی ہے تو بھی جائز ہے۔بلکہ بعض فقہاء کے نزدیک اگر عورت حاملہ ہو اور کوئی اچھی دایہ میسر نہ ہو اور ڈاکٹر یہ کہے کہ اگر یہ کسی قابل ڈاکٹر سے اپنا بچہ نہیں جنوائے گی تو اس کی جان خطرے میں ہے تو ایسی صورت میں اگر وہ کسی مرد سے بچہ جنوائے تو یہ بھی جائز ہوگا۔بلکہ اگر کوئی عورت مرد ڈاکٹر سے بچہ نہ جنوائے اور مرجائے تو خدا تعالیٰ کے حضور وہ ایسی ہی گناہگار سمجھی جائے گی جیسے اس نے خودکشی کی ہے۔پھر یہ مجبوری کام کے لحاظ سے بھی ہو سکتی ہے جیسے زمیندار گھرانوں کی عورتوں کی میں نے مثال دی ہے۔( پہلے مصلح موعود مثال دے چکے ہیں ) کہ ان کے گزارے ہی نہیں ہو سکتے (اگر وہ کام نہ کریں۔) جب تک کہ وہ کاروبار میں اپنے مردوں کی امداد نہ کریں۔یہ تمام چیزیں الّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا میں ہی شامل ہیں۔رض (ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 6 صفحه 299) پس اسلام نے آزادی بھی قائم کی ہے اور حدود بھی قائم کی ہیں کھلی چھٹی نہیں دے دی۔بعض مجبوریوں کی وجہ سے اجازت ہے کہ پردے کو کم کیا جا سکتا ہے۔معیار کا کیا جا سکتا ہے۔لیکن ساتھ ہی بلاوجہ ناجائز طور پر اسلامی حکموں کو چھوڑ نا اس سے بھی منع فرمایا ہے۔اسلام نے آزادی کے نام پر بے حیائی نہیں رکھی۔“ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 18 مارچ 2016ء مسجد بیت الفتوح ، لندن - مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 8 اپریل 2016ء) مغربی معاشرے میں مسلمان عورتوں کو اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں کی حفاظت کرنے کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے بارہا 92