پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 61 of 222

پردہ — Page 61

چھوٹی عمر کے بھی ہیں تو جس ماحول میں وہ بیٹھتے ہیں، کام کر رہے ہوتے ہیں ایسے ماحول میں بیٹھ کر ان کے ذہن بہر حال گندے ہو چکے ہوتے ہیں اور سوائے کسی استثناء کے الا ماشاء اللہ ، اچھی زبان ان کی نہیں ہوتی اور نہ خیالات اچھے ہوتے ہیں۔پاکستان میں تو میں نے دیکھا ہے کہ عموماً یہ لڑ کے تسلی بخش نہیں ہوتے۔تو ماؤں کو بھی کچھ ہوش کرنی چاہئے کہ اگر ان کی عمر پر دے کی عمر سے گزر چکی ہے تو کم از کم اپنی بچیوں کا تو خیال رکھیں۔کیونکہ ان کام کرنے والے لڑکوں کی نظریں تو آپ نیچی نہیں کر سکتے۔یہ لوگ باہر جا کر تبصرے بھی کر سکتے ہیں اور پھر بچیوں کی ، خاندان کی بدنامی کا باعث بھی ہو سکتے ہیں۔ایک دفعہ حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے فرمایا تھا کہ احمدی لڑکے، خدام، اطفال کی ٹیم بنائی جائے جو اس طرح شادیوں وغیرہ پر کام کریں۔خدمت خلق کا کام بھی ہو جائے گا اور اخراجات میں بھی کمی ہو جائے گی۔بہت سے گھر ہیں جو ایسے بیروں وغیرہ کو رکھنا afford ہی نہیں کر سکتے لیکن دکھاوے کے طور پر بعض لوگ بلا بھی لیتے ہیں تو اس طرح احمدی معاشرے میں باہر سے لڑکے بلانے کا رواج بھی ختم ہو جائے گا۔خدام الاحمدیہ، انصار اللہ۔یا اگر لڑکیوں کے فنکشن ہیں تولجنہ اماءاللہ کی لڑکیاں کام کریں۔اور اگر زیادہ ہی شوق ہے کہ ضرور ہی خرچ کرنا ہے، serve کرنے والے لڑکے بلانے ہیں یا لوگ بلانے ہیں تو پھر مردوں کے حصے میں مرد آئیں۔یہاں میں نے دیکھا ہے کہ عورتیں بھی serve کرتی ہیں عورتوں کے حصے میں۔تو وہاں پھر عورتوں کا انتظام ہونا چاہئے اور اس بارہ میں کسی بھی قسم کے احساس کمتری کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ بعض لوگ دیکھا دیکھی خرچ کر رہے ہوتے ہیں تو یہ ایک طرح کا احساس کمتری ہے۔کسی قسم کا پرده 61