پردہ — Page 47
پرده کرتے ہوئے مزید فرمایا: تو مومن کو تو یہ حکم ہے کہ نظریں نیچی کرو اور اس طرح عورتوں کو گھور گھور کر نہ دیکھو۔اور ویسے بھی بلا وجہ دیکھنے کا جس سے کوئی واسطہ تعلق نہ ہو کوئی جواز نہیں ہے۔لیکن عموماً معاشرے میں عورت کو بھی کوشش کرنی چاہئے کہ ایسے حالات پیدا نہ ہوں کہ اس کی طرف توجہ اس طرح پیدا ہو جو بعد میں دوستیوں تک پہنچ جائے۔اگر پر دہ ہوگا تو وہ اس سلسلے میں کافی مددگار ہوگا۔“ خطاب از مستورات جلسہ سالانہ یو کے 31 جولائی 2004ء بمقام للفورڈ۔مطبوعہ افضل انٹرنیشنل 24 اپریل 2015ء) کس طرح اور کس کس سے کرنا چاہئے، اس بارہ میں قرآن کریم میں بڑی وضاحت سے تعلیم بیان فرما دی گئی ہے۔اسی حوالہ سے حضور انور ایدہ اللہ نے اپنے ایک خطاب میں فرمایا: ایک بنیادی اسلامی حکم ہے اور قرآن کریم میں بڑا کھول کر اس کے بارے میں بیان ہوا ہے۔لوگ جو قرآن کریم غور سے نہیں پڑھتے سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں اتنی سختی نہیں کی۔یہ تو ایسا واضح حکم ہے جو بڑا کھول کر بیان کیا گیا ہے۔اور پہلے بھی میں دو تین دفعہ کہہ چکا ہوں۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ شاید میں ہی اس کو سختی سے زیادہ بیان کر رہا ہوں۔حالانکہ میں وہ بیان کر رہا ہوں جو قرآن کریم کے مطابق ہے۔میں وہ بات آپ کو کہہ رہا ہوں جو قرآن کریم کہتا ہے۔قرآن کریم پردے کے بارہ میں کیا کہتا ہے۔یہ لمبی آیت ہے اس میں حکم ہے وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِ مِن (النور:32) کہ اپنی زینت ظاہر نہ کیا کریں سوائے اس کہ جو اس میں سے از خود ظاہر ہو۔اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈال لیا کریں۔وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ الَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ 47