پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 32 of 222

پردہ — Page 32

پرده ہیں کہ قرآن کریم تو کہتا ہے کہ زینت چھپاؤ اور سب سے زیادہ زینت کی چیز چہرہ ہی ہے اگر چہرہ چھپانے کا حکم نہیں تو پھر زینت کیا چیز ہے جس کو چھپانے کا حکم دیا گیا ہے۔بے شک ہم اس حد تک قائل ہیں کہ چہرے کو اس طرح چھپایا جائے کہ اس کا صحت پر کوئی برا اثر نہ پڑے مثلاً باریک کپڑا ڈال لیا جائے یا عرب عورتوں کی طرز کا نقاب بنالیا جائے جس میں آنکھیں اور ناک کا نتھنا آزاد رہتا ہے۔مگر چہرے کو سے باہر نہیں رکھا جا سکتا۔“ ( تفسیر کبیر جلد ششم صفحہ 301) پھر فرمایا کہ جو جو عورتیں بڑھاپے کی وجہ سے کمزور ہو جائیں اور نکاح کے قابل نہ رہیں وہ اگر معروف پر دہ چھوڑ دیں تو جائز ہے ہاں خواہ مخواہ زیور پہن کر اور بناؤ سنگھار کر کے باہر نہ نکلیں یعنی ایک عمر تک ہے اس کے بعد کے احکام ساقط ہو جاتے ہیں۔ہمارے ملک نے کے احکام کو ایسی بری طرح استعمال کیا ہے کہ جوان عورتیں چھوڑ رہی ہیں اور بوڑھی عورتوں کو جبراً گھروں میں بٹھایا جا رہا ہے۔عورت کا چہرہ میں شامل ہے ورنہ آنْ يَضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ کے یہ معنے کرنے پڑیں گے کہ مونہہ اور ہاتھ تو پہلے ہی ننگے تھے اب سینہ اور بازو بھی بلکہ سارا بدن بھی ننگا کرنا جائز ہو گیا حالانکہ اسے کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا۔( تفسیر کبیر جلد ششم صفحه 396-397) ہوتا یہی ہے کہ اگر کی خود تشریح کرنی شروع کر دیں اور ہر کوئی پردے کی اپنی پسند کی تشریح کرنی شروع کر دے تو پردے کا تقدس کبھی قائم نہیں رہ سکتا۔اس لئے ماں باپ دونوں کو اپنی اولاد کے پردے کی طرف توجہ دینی چاہئے اور یہ دونوں کی ذمہ داری ہے۔“ ( خطبه جمعه فرموده 30 جنوری 2004ء بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن - مطبوعه الفضل انٹرنیشنل 9 اپریل 2004ء) 32 82