پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 31 of 222

پردہ — Page 31

رشتہ آیا تھا۔اس کی شکل دیکھنے کے لئے بھیجا تا کہ دیکھ کر آئیں۔اگر چہرہ کا نہ ہوتا تو ظاہر ہے کہ پھر تو ہر ایک نے شکل دیکھی ہوتی۔پھر دوسری مرتبہ یہ واقعہ حدیث میں بیان ہوتا ہے کہ جب ایک لڑکے کو آنحضرت علیم نے فرمایا کہ تم فلاں لڑکی سے شادی کرنا چاہتے ہو تم نے اس کو دیکھا ہے؟ اگر نہیں دیکھا تو جا کر دیکھ آؤ۔کیونکہ پردے کا حکم تھا بہر حال دیکھا نہیں ہوگا۔تو جب وہ اس کے گھر گیا اور لڑکی کو دیکھنے کی خواہش کی تو اس کے باپ نے کہا کہ نہیں اسلام میں پردے کا حکم ہے اور میں تمہیں لڑکی نہیں دکھا سکتا۔پھر اس نے آنحضرت علیم کا حوالہ دیا تب بھی وہ نہ مانا۔بہر حال ہر ایک کی اپنی ایمان کی حالت ہوتی ہے۔اسلام کے اس حکم پر اس کی زیادہ سختی تھی بجائے اس کے کہ آنحضرت مال اللہ کے حکم کو موقعہ محل کے مطابق تسلیم کرتا اور مانتا۔تولڑ کی جواندر بیٹھی یہ باتیں سن رہی تھی وہ باہر نکل آئی کہ اگر آنحضرت صیام کا حکم ہے تو پھر ٹھیک ہے میرا چہرہ دیکھ لو۔تو اگر چہرہ کے کا حکم نہیں تھا تو حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ پھر آنحضرت علی نے یہ کیوں فرمایا۔ہر ایک کو پتہ ہوتا کہ فلاں لڑکی کی یہ شکل ہے اور فلاں کی فلاں شکل۔اسی طرح ایک موقع پر آنحضرت علی ایام اعتکاف میں تھے۔رات کو حضرت صفیہ کو چھوڑنے جا رہے تھے تو سامنے سے دو آدمی آرہے تھے۔ان کو دیکھ کر آنحضرت معالم نے فرمایا گھونگھٹ اٹھاؤ اور فرمایا دیکھ لو یہ میری بیوی صفیہ ہی ہے۔کوئی شیطان تم پر حملہ نہ کرے اور غلط الزام لگانا نہ شروع کر دو۔تو چہرے کا بہر حال ہے۔پھر حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : و لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اسلام میں منہ چھپانے کا حکم نہیں ان سے ہم پوچھتے 31 پرده