پردہ — Page 30
پرده کرنا اس کے لئے جائز ہو۔میرے نزدیک آپ ہی آپ ظاہر ہونے والی موٹی چیزیں دو ہیں یعنی قد اور جسم کی حرکات اور چال۔لیکن عقلاً یہ بات ظاہر ہے کہ عورت کے کام کے لحاظ سے یا مجبوری کے لحاظ سے جو چیز آپ ہی آپ ظاہر ہو وہ پر دے میں داخل نہیں۔چنانچہ اسی اجازت کے ماتحت طبیب عورتوں کی نبض دیکھتا ہے کیونکہ بیماری مجبور کرتی ہے کہ اس چیز کو ظاہر کر دیا جائے۔پھر فرمایا کہ : اگر کسی گھرانے کے مشاغل ایسے ہوں کہ عورتوں کو باہر کھیتوں میں یا میدانوں میں کام کرنا پڑے تو اُن کے لئے آنکھوں سے لے کر ناک تک کا حصہ کھلا رکھنا جائز ہوگا۔اور ٹوٹا ہوا نہیں سمجھا جائے گا کیونکہ بغیر اس کے کھولنے کے وہ کام نہیں کرسکتیں اور جو حصہ ضروریات زندگی کے لئے اور ضروریاتِ معیشت کے لئے کھولنا پڑتا ہے اس کا کھولنا پر دے کے حکم میں ہی شامل ہے۔۔۔لیکن جس عورت کے کام اسے مجبور نہیں کرتے کہ وہ کھلے میدانوں میں نکل کر کام کرے اُس پر اس اجازت کا اطلاق نہ ہوگا۔غرض اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا کے ماتحت کسی مجبوری کی وجہ سے جتنا حصہ ننگا کرنا پڑے ننگا کیا جاسکتا ہے۔( تفسیر کبیر جلد ششم صفحہ 299-298) تو اس تفصیل سے پردے کی حد کی بھی کافی حد تک وضاحت ہوگئی کہ کیا حد ہے۔چہرہ چھپانے کا بہر حال حکم ہے۔اس حد تک چہرہ چھپایا جائے کہ بے شک ناک نگا ہو اور آنکھیں ننگی ہوں تا کہ دیکھ بھی سکے اور سانس بھی لے سکے۔“ حضور انور ایدہ اللہ نے اس حوالہ سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور احادیث سے مثالیں دیتے ہوئے مزید فرمایا کہ : اس بارہ میں حضرت مصلح موعودؓ نے احادیث سے یہ دلیل دی ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت علیم نے ایک صحابی کو اس لڑکی کی شکل دیکھنے کے لئے بھیجا جس کا 30