پردہ — Page 197
پرده ایک جلوس نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔اور کے ان جلوسوں میں اکثر منہ لیٹے ہوئے وہ لوگ ہوتے ہیں اور کرنے والوں کی اُن میں ایسی تعداد ہوتی ہے جو آپ کو بازار میں اکثر ننگے مُنہ پھرتی نظر آئیں گی بلکہ لباس بھی قابل شرم ہوں گے۔یہ اس لئے ہے کہ اُن کی کوئی رہنمائی نہیں ہے۔ایک وقتی جوش اور اُبال ہے جو رد عمل کے طور پر ظاہر ہوتا ہے اور جو پردے پر پابندی کا رد عمل ہے۔لیکن ایک احمدی عورت اور ایک احمدی نوجوان لڑکی جو پردے کی عمر کو پہنچ چکی ہے، اُسے ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ اُس کے ایمان کا حصہ ہے۔ان احکامات میں سے ہے جن کا قرآن کریم نے حکم دیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سی احمدی بچیاں اس حقیقت کو مجھتی ہیں۔گزشتہ دنوں پر دے کے خلاف فرانس میں جو رو چلی تھی اُس پر ایک احمدی نوجوان بچی جو وقف کو بھی ہے اور جرنلزم میں ماسٹرز کر رہی ہے، اُس نے اخبار کو خط لکھا کہ ایک طرف تو یورپ فرد کی آزادی اور مذہبی آزادی کا نعرہ لگاتا ہے اور دوسری طرف جو ہمارے مذہب کے احکامات میں سے ایک حکم ہے اس پر تم پابندی لگاتے ہو جبکہ ہم جو کرنے والی خواتین ہیں اسے خوشی سے قبول کرتے ہوئے اپنے خدا کے حکم کے مطابق اس پر عمل کرنا ضروری سمجھتی ہیں۔پس ثابت ہوا کہ تمہارا جو مذہبی آزادی دینے کا دعویٰ ہے صرف ایک اعلان ہے اور اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔آج کل مسلمانوں میں سے اکثریت ایسی ہے جو نہیں کرتی اور اب تو ان کے لباس بھی اتنے ننگے ہو گئے ہیں کہ ٹی وی وغیرہ پر بعض دفعہ جو پروگرام آرہے ہوتے ہیں، انہیں دیکھ کر شرم آتی ہے اور پھر یہ مسلمان کہلانے والی ہیں۔اور خشکی اور تری میں فساد سے یہی مراد ہے کہ نہ دین باقی رہا نہ اسلام باقی رہا لیکن پھر بھی مسلمان کہلانے والی ہیں۔197