پردہ — Page 163
ہورہی ہو۔اس لئے عام نوکریوں کے لئے حجاب اتارنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی جبکہ نوکری بھی ایسی جس میں لڑکی روز مرہ کے لباس اور میک آپ میں ہو، کوئی پرده خاص لباس وہاں نہیں پہنا جانا۔پس ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ حیا کے لئے حیادار لباس ضروری ہے اور کا اس وقت رائج طریق حیادار لباس کا ہی ایک حصہ ہے۔اگر میں نرمی کریں گے تو پھر اپنے حیا دار لباس میں بھی کئی عذر کر کے تبدیلیاں پیدا کرلیں گی اور پھر اس معاشرے میں رنگین ہو جائیں گی جہاں پہلے ہی بے حیائی بڑھتی چلی جارہی ہے۔دنیا تو پہلے ہی اس بات کے پیچھے پڑی ہوئی ہے کہ کس طرح وہ لوگ جو اپنے مذہب کی تعلیمات پر چلنے والے ہیں اور خاص طور پر مسلمان ہیں انہیں کس طرح مذہب سے دور کیا جائے۔( خطبہ جمعہ فرمودہ 13 جنوری 2017 بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن۔مطبوعہ افضل انٹرنیشنل 3 فروری 2017ء) ایک لجنہ ممبر کے سوال پر کہ آیا عورتیں بھی پولیس کی نوکری کر سکتی ہیں؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا : ”میرے نزدیک کچھ ایسے پروفیشن ہیں جو ایک مذہبی خاتون کو جو ، حجاب پہنتی ہو، اس کو نہیں اختیار کرنے چاہئیں۔کیونکہ وہاں آپ کو پولیس کی وردی پہنی پڑے گی اور پولیس کی وردی میں حجاب نہیں پہنا جا سکتا ہے۔بلکہ آپ کو ٹراؤزر اور ٹی شرٹس اور جیکٹ پہنی پڑتی ہیں۔بعض دفعہ صرف پی کیپ کا استعمال کرتے ہیں۔سواحمدی خواتین کو پولیس سروس میں نہیں جانا چاہئے۔اس کو مردوں کے لئے ہی رہنے دینا چاہئے۔میرے نزدیک کئی اور پروفیشن ہیں جو ایک احمدی 66 خاتون اختیار کر سکتی ہے۔“ اسی لجنہ ممبر کے ایک سوال پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 163