پردہ — Page 164
پرده آپ سوشل ورکر بن سکتی ہیں۔کیونکہ اس میں آپ محروم اور ضرورتمند لوگوں کی خدمت کرتی ہیں۔آپ ہیومینیٹی فرسٹ میں شامل ہو سکتی ہیں۔ہمیں ایسی لڑکیوں کی ضرورت ہے جو افریقہ کے کچھ علاقوں میں بسنے والے غرباء کی مدد کریں۔“ کلاس طالبات جرمنی 2 جون 2012ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 24 اگست 2012ء) ایک لڑکی نے سوال کیا کہ اگر یہاں قانون نکل آئے کہ عورتیں صرف بغیر پردے کے ہی کام کر سکتی ہیں تو اس سلسلہ میں بھی حضور کچھ ارشاد فرمائیں۔حضور انور نے فرمایا : ” اول تو دعا کریں۔انشاء اللہ ایسا قانون نہیں نکلے گا اور اگر نکل آیا تو دین پہلے اور دنیا بعد میں۔“ کلاس طالبات جرمنی 10 جون 2006ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 7 جولائی 2006ء) حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ایک طرف احمدی خواتین میں اسلامی کی ترویج کے لئے سعی فرمائی اور دوسری طرف غیر مسلموں کی طرف سے پر ہونے والے حملوں کا بھی کامیاب دفاع فرمایا۔چنانچہ اپنے ایک خطبہ جمعہ میں حضور انور نے اس حوالہ سے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : اس کے ساتھ ہی میں ان احمدی لڑکیوں کو بھی کہتا ہوں جو کسی قسم کے complex میں مبتلا ہیں کہ اگر دنیا کی باتوں سے گھبرا کر یا فیشن کی رو میں بہہ کر انہوں نے اپنے حجاب اور پر دے اتار دئیے تو پھر آپ کی عزتوں کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہوگی۔آپ کی عزت دین کی عزت کے ساتھ ہے۔میں پہلے بھی ایک مرتبہ ایک واقعہ کا ذکر کر چکا ہوں۔اس طرح کے کئی واقعات ہیں۔ایک احمدی بچی کو اس کے باس (boss) نے نوٹس دیا کہ اگر تم حجاب لے کر دفتر آئی تو تمہیں کام سے فارغ کر دیا جائے گا اور ایک مہینہ کا نوٹس ہے۔اس بچی نے دعا کی کہ اے اللہ ! میں تو تیرے حکم کے مطابق یہ کام کر رہی ہوں 164