پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 160 of 222

پردہ — Page 160

پرده ہر قوم میں ہے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: قرآن کریم میں تم حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وہ قصہ پڑھتی ہو کہ جب مدین میں دولڑ کیاں اپنے جانوروں کو پانی پلانا چاہتی تھیں۔وہاں مرد پانی پلا رہے تھے تو وہ پیچھے ہٹ گئیں۔وہ نہیں چاہتی تھیں کہ direct interaction مَردوں کے ساتھ ہو۔تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا کہ کیا قصہ ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ اس طرح ہے۔انہوں نے ساری بات بیان کی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کے جانوروں کو پانی پلایا۔اس کے بعد قرآن کریم یہ ذکر کرتا ہے کہ جب وہ چلی گئیں تو پھر ان میں سے ایک واپس آئی اور بڑی حیا سے اپنے آپ کو سنبھالتی ہوئی آئی کھلی open ہو کے نہیں آگئی تھی کہ میرا باپ تمہیں بلاتا ہے۔قرآن کریم میں یہ سارا قصہ لکھا ہوا ہے تم اسے پڑھو۔چنانچہ حضرت موسیٰ جب گئے تو باپ بھی بڑا ہوشیار تھا۔اس نے یہ نہیں کہا کہ میری جوان بچیاں بھی گھر میں ہیں تو میں ایک لڑکا گھر میں رکھ لوں کیونکہ یہاں پھر عورت کی sanctity کا سوال آجاتا ہے۔اس لئے اس نے کہا کہ تمہیں گھر میں رکھ تو لیتا ہوں اور تمہارے پاس گھر میں رہنے کی جگہ بھی نہیں ہے۔اس لئے تم میری دو بیٹیوں میں سے ایک بیٹی سے شادی کرلو تا کہ تمہارے رہنے کا کوئی جواز بن جائے۔پس اصل چیز یہ ہے کہ پر دے میں عورت کی حفاظت کی گئی ہے اور اس کے لئے مرد کو بھی روکا گیا ہے لیکن پھر بھی مرد کی بے اعتباری کی وجہ سے عورت کو کہا گیا ہے کہ تم اپنے آپ کو زیادہ سنبھالو۔“ کلاس طالبات کینیڈ 141 جولائی 2012ء مطبوعہ افضل انٹرنیشنل 12 اکتوبر 2012ء) 160