پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 149 of 222

پردہ — Page 149

سکارف لیتی ہیں وہ بہر حال اس قابل نہیں ہوتے اس سے صحیح طور پر ہو سکے۔تھوڑی تھوڑی دیر بعد یہ سر سے ڈھلک رہا ہوتا ہے۔پھر میک آپ بھی کیا ہوتا ہے اگر ایک عورت مثلاً ڈاکٹر یا کسی اور پیشے میں ہے اور اپنے پیشے کے لحاظ سے ہر وقت نقاب سامنے رکھنا مشکل ہے تو وہ تو ایسا سکارف لے سکتی ہے جس سے چہرے کا زیادہ سے زیادہ ہو سکے اور اس کے کام میں بھی روک نہ پڑے لیکن ایسی صورت میں پھر بھر پور میک اپ بھی چہرے کا نہیں ہونا چاہئے۔لیکن ایک عورت جو خانہ دار خاتون ہے پاکستان سے کرتی یہاں آتی ہے یہاں آ کر نقاب اتار دیں اور میک اپ بھی کریں تو یہ عمل کسی طرح بھی صالح عمل نہیں کہلا سکتا۔ایسی عورت کے بارے میں یہی سوچا جاسکتا ہے کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے بجائے دنیا کو دین پر مقدم کر رہی ہے۔ماحول سے متاثر زیادہ ہو رہی ہے بلکہ بعض دفعہ شرم آتی ہے یہ دیکھ کر کہ یہاں یورپ کے ماحول میں پلی بچیاں جو ہیں عورتیں جو ہیں وہ ان پاکستان سے آنے والی عورتوں سے زیادہ بہتر کر رہی ہوتی ہیں۔ان لوگوں سے جو پاکستان سے یا ہندوستان سے آئی ہیں ان کے لباس اکثر کے بہتر ہوتے ہیں وہاں جو برقع پہن رہی ہوتی ہیں اگر تو وہ مردوں کے حکم پر اتار رہی ہوتی ہیں تب بھی غلط کرتی ہیں اللہ تعالیٰ کے واضح احکامات کے خلاف مردوں کے کسی حکم کو ماننے کی ضرورت نہیں۔اور اگر یہ عورتیں خود ایسا کر رہی ہیں تو مردوں کے لئے بھی قابل شرم بات ہے ان کو تو انہیں کہنا چاہئے تھا کہ تمہارا ایک احمدی عورت کا تقدس ہے اس کی حفاظت کرو نہ کہ اس کے پردے اتر واؤ۔پس ہر قسم کے کمپلیکس سے آزاد ہو کر مر دوں اور عورتوں دونوں کو پاک ہو کر یہ عمل کرنا چاہئے اور اپنے پردوں کی حفاظت کریں۔ایسی عورتیں اور ایسے مردوں کو پرده 149