پردہ — Page 143
کسی وقت ، تو خاص طور پر ان اوقات میں ان گھروں میں نہیں جانا چاہئے۔پھر بعض جگہ یہ بھی ہوتا ہے کہ کوئی احساس نہیں دلایا جاتا تو جو کلاس فیلولر کے ہوتے ہیں گھروں میں بڑی عمر تک آتے چلے جاتے ہیں۔اللہ کا فضل ہے کہ احمدی معاشرے میں ایسی برائیاں بہت اکا دُکا شاذ ہی کہیں ہوتی ہیں۔اکثر بچ رہے ہیں لیکن اگر اس کو کھلی چھٹی دیتے چلے گئے تو یہ برائیاں بڑھنے کے امکانات ہیں۔رشتے برباد ہونے کے امکانات ہیں۔لڑکیوں نے اگر اس معاشرے میں تفریح کرنی ہے تو ہر جگہ پر اس کا سامان کرنالجنہ کا کام ہے۔پھر مسجد کے ساتھ یا نماز سینٹرز کے ساتھ کوئی انتظام کریں جہاں احمدی بچیاں جمع ہوں اور اپنے پروگرام کریں۔اگر بچپن سے ہی بچیوں کے ذہن میں یہ بات ڈالنی شروع کر دیں گی کہ تمہارا ایک تقدس ہے اور اس معاشرے میں جنسی بے راہ روی بہت زیادہ ہے تم اب شعور کی عمر کو پہنچ گئی ہو تو اس لئے خود اپنی طبیعت میں حجاب پیدا کرو جو تمہارے اور تمہارے خاندان کے اور جماعت کے لئے نیک نامی کا باعث بنے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے الا ما شاء اللہ تمام بچیاں اس بات کو سمجھتے ہوئے نیکی کی راہ پر قدم مارنے والی ہوں گی۔“ ( خطاب بر موقع سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ جر منی 11 / جون 2006 ء۔مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 19 جون 2015ء) اسی طرح موجودہ زمانے میں حیا کے گرتے ہوئے معیار کو بہتر بنانے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ نے احمدی بچوں اور بچیوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : آجکل کے معاشرے میں جو برائیاں ہمیں نظر آ رہی ہیں یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک ایک لفظ کی تصدیق کرتی ہیں۔پس ہر احمدی لڑکی، لڑکے اور مرد اور عورت کو اپنی حیا کے معیار اونچے کرتے ہوئے معاشرے کے گند سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے نہ کہ یہ سوال یا اس بات پر احساس کمتری کا خیال کہ پرده 143