پردہ — Page 105
پرده اسی طرح جلسہ سالانہ برطانیہ کے موقع پر بھی مستورات سے اپنے خطاب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے لباس التقوی کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے واضح فرمایا کہ اصل زینت کپڑوں اور زیورات سے نہیں ملتی بلکہ لِبَاسُ التَّقوی ہی وہ اصل لباس ہے جو مردوں اور خواتین، دونوں کے لئے حقیقی زینت مہیا کر سکتا ہے۔حضور انور ایدہ اللہ نے اس ضمن میں فرمایا: کپڑے یا ظاہری حسن کوئی چیز نہیں ہے۔اصل حسن وہ ہے جو اللہ تعالیٰ عطافرماتا ہے۔عورت کو اپنے حسن اور زینت کا بڑا خیال رہتا ہے لیکن بہت سی ایسی ہیں جو اپنی اصل زینت سے بے خبر رہتی ہیں۔میک آپ کرنے سے، کپڑے پہنے سے، زیور پہننے سے زینت نہیں ملتی۔اصل زمینت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتائی ہے۔اُس حسن سے بے خبر رہتی ہیں جس سے اُن کا حسن وزمینت کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور جو آزادی حاصل کر کے نہیں ملتی۔اس معاشرے کی فضولیات میں گم ہو کر نہیں ملتی۔جو حجاب ختم کر کے نہیں ملتی۔جو سر ننگے کرنے سے نہیں ملتی۔جو اپنے خاوندوں کے سامنے دنیاوی خواہشات پیش کرنے سے نہیں ملتی۔یا مردوں کے لئے بھی ایک زینت ہے، مردوں کو وہ زینت ، فیشن ایبل عورت سے رشتہ کرنے سے نہیں ملتی ، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے سے ملتی ہے۔آجکل مغرب کے زیر اثر ہو کر ہماری بعض عورتیں بھی اس قسم کا اظہار کر دیتی ہیں کہ شاید یہی زینت ہے۔ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ زینت تقویٰ کا لباس پہننے سے ملتی ہے۔اور لباس تقویٰ اُن کو میسر آتا ہے جو اپنے ایمانی عہدوں اور امانتوں کو اپنی تمام تر صلاحیتوں اور استعدادوں کے ساتھ پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں چاہے وہ مرد ہوں یا عورتیں ہوں۔“ خطاب از مستورات جلسہ سالانہ یو کے 23 جولائی 2011ء - مطبوعہ افضل انٹرنیشنل 4 مئی 2012 105