پردہ — Page 42
پرده ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ اسماء بنت ابی بکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔اور انہوں نے باریک کپڑے پہنے ہوئے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض کیا۔یعنی ادھر اُدھر ہونے کی کوشش کی اور فرمایا: اے اسماء ! عورت جب بلوغت کی عمر کو پہنچ جائے تو یہ مناسب نہیں کہ اس کے منہ اور ہاتھ کے علاوہ کچھ نظر آئے۔اور آپ مالی تعلیم نے اپنے منہ اور ہاتھ کی طرف اشارہ کر کے یہ بتایا۔“ (ابوداؤد کتاب اللباس باب فيما تبدى المرأة من زينتها) ( خطاب از مستورات جلسہ سالانہ کینیڈا 3 جولائی 2004، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 23 ستمبر 2005ء) عورتوں کے لئے اپنی زینت چھپانے کے قرآنی حکم کو بجالانے کی اہمیت تو ہر احمدی عورت پر عیاں ہے۔اس ذمہ داری کو بہترین رنگ میں ادا کرنے کے لئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے احمدی عورتوں کو لباس کے ضمن میں مناسب رویے اپنانے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ نے عبادتوں کے ساتھ یہ حکم دیا ہے کہ اپنی زمینوں کو چھپاؤ۔اپنے سروں اور چہروں کو ڈھانکو۔اپنے تقدس کو قائم رکھو۔ہر عورت کا ایک تقدس ہے اور احمدی عورت کا تقدس تو بہت زیادہ ہے۔۔۔بعض شکایتیں ایسی بھی بعضوں کی مل جاتی ہیں کہ مسجد میں آتی ہیں تو لباس صحیح نہیں ہوتے۔جینز پہنی ہوئی ، اور قیص چھوٹی ہوتی ہے، جینز پہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔میں نے اجازت دی تھی لیکن اس کے ساتھ لمبی قمیص ہونی چاہئے۔اُن کو روکا گیا تو ماؤں نے عہد یداروں سے لڑنا شروع کر دیا کہ تم ہماری بچیوں کو روکنے ٹوکنے والی کون ہوتی ہو۔ایک تو آپ مسجد کے تقدس کو خراب کر رہی ہیں کہ وہاں وہ لباس پہن کر نہیں آرہیں جو اُن کے لئے موزوں لباس ہے۔دوسرے ایک نظام کی لڑی میں پروئے ہونے کے باوجود اُس 42