پردہ — Page 41
چاہئیں۔ایک احمدی عورت ایک احمدی لڑکی کی پہچان یہ ہونی چاہئے کہ اس کالباس حیادار ہو۔پس اپنے لباسوں کا خاص طور پر خیال کریں کیونکہ یہ بھی ایک احمدی عورت کے تقدس کے لئے بہت ضروری ہے۔یہ بڑے افسوس کی بات ہوگی اگر نئی شامل ہونے والی تو اس بات کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اپنے لباس میں حیا کا پہلو مد نظر رکھیں اور پرانی احمدی اس معاشرہ کے بداثرات کی وجہ سے اپنے حیادار لباس سے بے پرواہ ہو جائیں۔پس ان باتوں کا ہمیشہ خیال رکھیں اور اپنے جائزے لیتی رہیں ورنہ شیطان کے حملے، جیسا کہ میں نے کہا، میڈیا کے ذریعہ سے اتنے شدت سے ہورہے ہیں کہ 66 ان سے بچنا محال ہے۔۔۔( خطاب از مستورات جلسه سالانہ جرمنی 23 اگست 2008ء بمقام منہائم۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 4 نومبر 2011ء) روزمرہ زندگی میں نوجوان احمدی بچیوں کو کا خیال رکھنے کے ضمن میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے توجہ دلاتے ہوئے اپنے ایک خطاب میں یوں فرمایا: اسکولوں اور کالجوں میں بھی لڑکیاں جاتی ہیں اگر کلاس روم میں ، سکارف لینے کی اجازت نہیں بھی ہے تو کلاس روم سے باہر نکل کر فورا لینا چاہئے۔یہ دو عملی نہیں ہے اور نہ ہی یہ منافقت ہے۔اس سے آپ کے ذہن میں یہ احساس رہے گا کہ میں نے کرنا ہے اور آئندہ زندگی میں پھر آپ کو یہ عادت ہو جائے گی۔اور اگر چھوڑ دیا تو پھر چھوٹ بڑھتی چلی جائے گی اور پھر کسی بھی وقت پابندی نہیں ہوگی۔پھر وہ جو حیا ہے وہ ختم ہو جاتی ہے۔پھر اپنے عزیز رشتہ داروں کے درمیان بھی جب کسی فنکشن میں یا شادی بیاہ وغیرہ میں آئیں تو ایسا لباس نہ ہو جس میں جسم اٹریکٹ (attract) کرتا ہو یا اچھا لگتا ہو یا جسم نظر آتا ہو۔آپ کا تقدس اسی میں ہے کہ اسلامی روایات کی پابندی کریں اور دنیا کی نظروں سے بچیں۔پرده 41