پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 189 of 222

پردہ — Page 189

واقفات تو کی مائیں نمونہ بنیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے واقفات کو کے اجتماعات کے مواقع پر اپنے متعد دخطابات میں بچیوں کے علاوہ ان کی ماؤں کو بھی ان کی تربیتی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ فرمایا ہے۔چنانچہ ایک موقع پر انمول نصائح سے نوازتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا: ”یہاں پر بعض بہت چھوٹی بچیاں بھی میرے سامنے بیٹھی ہوئی ہیں جو غالباً بارہ سال سے چھوٹی ہیں۔انہیں بھی یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہر احمدی بچی کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی حیا کی حفاظت کرے۔چاہے کوئی بچی آٹھ سال کی یا نو سال کی یا دس سال کی ہے، اسے اپنے لباس میں حیا کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔ان کی ماؤں نے عہد کیا ہوا ہے کہ یہ وقف کو تحریک کا حصہ ہیں۔انہیں چاہئے کہ وہ ان بچیوں کے دل میں یہ اہم چیز راسخ کر دیں کہ انہوں نے ہمیشہ شرم و حیا کے تقاضوں کے مطابق کپڑے پہنتے ہیں۔ویسے تو تمام احمدی لڑکیوں کے لباس میں شرم وحیا کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے مگر واقفات کو کے لئے تو یہ اور بھی زیادہ اہم ہے کہ انہیں اس کا مکمل احساس ہو۔اگر بالکل چھوٹی عمر سے ان کو یہ احساس دلا دیا جائے تو پھر بڑے ہو کر انہیں با پر وہ رہنے میں کوئی ہچکچاہٹ یا احساس کمتری نہیں ہوتا۔جو بچیاں آٹھ ، نو یا دس سال کی بھی ہیں انہیں مناسب قسم کے فیشن اپنا نے چاہئیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے چھوٹی احمدی بچیاں بھی بہت ذہین ہیں۔اس لئے انہیں دین کا علم حاصل کرنا چاہئے اور اپنی ذہانت کو اچھے اور مثبت طور پر استعمال میں لانا چاہئے۔ایک چھوٹی بچی کے لئے یہ اہم ہوگا کہ اُس کو جو اچھی باتیں اُس کے والدین بتائیں وہ انہیں غور سے سنے اور عمل کرنے کی کوشش کرے۔“ 189 پرده